ضرورت ملجئہ شرعیہ کے وقت مفقود الخبر کی بیوی امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب پر عمل کرے!
مکرمی! سلام مسنون گزارش ہے کہ میری لڑکی جس کی عمر سولہ سال کی تھی ، میں نے اس کی شادی اپنی ہی برادری کے ایک لڑکے (جس کی عمر ۲۰ یا ۲۲ سال کی ہوگی) کے ساتھ کرا دی تھی۔ شادی ہونے کے ڈیڑھ سال بعد وولٹ کالا پتہ ہو گیا، پتہ لگانے پر بھی کچھ پتہ نہیں چلتا ۔ لڑکی میرے ہی گھر پر عرصہ پانچ سال چھ ماہ سے ہے
الجواب: ہنگام ضرورت ملجنہ شرعیہ صورت مسئولہ میں امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب پر عمل کی اجازت ہوگی۔ ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرع کے یہاں حاضر ہوکر استغاثہ پیش کرے، وہ بعد ثبوت مفقودی شوہر، چار سال مدت تلاش مقرر کریگا۔ اس مدت میں خوب تلاش کے بعد جب نہ ملے تو عورت پھر حاکم کے یہاں آئے اب حاکم اس کی موت کا حکم فرمائیگا اور چار ماہ دس دن عدت میں بیٹھنے کا حکم دے گا۔ جس کے بعد عورت مختار ہوگی ۔ جہاں حاکم شرع نہ ہو وہاں اس جگہ کا سب سے بڑاسنی صحیح العقیدہ مرجع فتویٰ قائم مقام حاکم کے ہے۔ حدیقہ ندیہ میں فتاویٰ عتابیہ سے ہے: اذا خلى الزمان من سلطان ذى كفاية فالامور مؤكلة الى العلماء ويلزم الامة الرجوع اليهم ويصيرون ولاة - الخ ملتقطا ) واللہ تعالیٰ اعلم ،، فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ یکم صفر المظفر ۱۳۹۸ھ