شوہر کی اجازت کے بغیر میکے میں رہنے اور بھائی کی خدمت کرنے والی عورت کا شرعی حکم
رجب المرجب کے ماہ سے اہلیہ میری اپنے والدین کے گھر ہیں، خانگی جھگڑے کی بنا پر ۔ جبکہ اس وقت میرے بچے بھی بالغ ہیں ۔ حتی کہ میں شدید مرض میں مبتلا رہا، میری خبر لینے کو بھی نہیں آئیں۔ لوگوں کے کہنے سننے کے بعد جب میں اچھا ہوا تو اپنے سسر کے یہاں اہلیہ کو دیکھنے گیا تو میں نے دیکھا کہ اہلیہ اپنے بڑے بھائی نور محمد شاہ (حالی مقبول صاحب کے صاحبزادے) کے ہاتھ پیر اور سر دبا رہی تھیں۔ اس پر میں نے اہلیہ سے کہا کہ یہ شریعت میں منع ہے، اپنے بڑے بھائی جو بالغ اور شادی شدہ ہیں، اپنی زوجہ سے خدمت لے سکتے ہیں۔ اس پر اہلیہ نے جواب دیا کہ پہلے یہ کام کرونگی جو کر رہی ہوں بعد کو دوسرا کام۔ اور ساتھ ہی آنے کا بھی ارادہ نہیں رکھتی ، اپنے بھائی و بہنوئی کے حکم پر چل رہی ہیں اور میری طرف سے تغافل ایسی صورت میں اہلیہ پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم عائد ہوتا ہے؟ اور ان لوگوں پر جو اہلیہ کو خود بھی غلط روش پر چلنے کا طریقہ سکھاتے ہیں کہ شوہر کے حکم کی خلاف ورزی کی جائے ۔ از راہ کرم شریعت مطہرہ کے حکم سے آگاہ فرما ئیں ۔ جواب اس پر چہ پر ہی دیں۔ المستفتی: عبدالغنی جبل پور ( مدھیہ پردیش)
الجواب: اگر آپ کی اہلیہ بے وجہ شرعی آپ سے رکی ہوئی ہیں اور آپ کی مرضی کے برخلاف گھر بیٹھی ہوئی ہیں تو سخت گنہگار مستوجب غضب جبار سحق عذاب نار ہیں۔ حدیث میں ہے: لاتؤدى المرأة حق ربها حتى تؤدى حق زوجها (۱) عورت اپنے رب کے حق کو ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے یعنی عورت کا کوئی نیک عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہے۔ چنانچہ دوسری حدیث میں ہے: ثلاثة لاترفع صلاتهم فوق رؤسهم شبرا رجل ام قوما وهم له كارهون و امرأة باتت وزوجها عليها ساخط و اخوان متصارفان (۲) اور تیسری حدیث میں ہے: ثلاثة لا يقبل الله لهم صلاة ولا ترفع لهم الى السماء حسنة العبد الآبق حتى يرجع الى مواليه والمرأة الساخط عليها زوجها حتى يرض والسكران حتى يصحوا (۱) یعنی تین کی نماز ایک بالشت بھر نہیں بڑھتی یعنی قبول نہیں ہوتی اور نہ ان کی کوئی نیکی آسمان کی طرف چڑھے، ان تین میں اس عورت کو شمار فرمایا جس سے اس کا شوہر ناراض ہو۔ ان پر تو بہ لازم ہے اور آپ کو راضی کرنا فرض ہے اور جو انہیں آپ سے بے وجہ شرعی رو کے ہوئے ہیں وہ بھی سخت گناہ گار ظالم جفا کار ہیں۔ عورت کو اپنے خاوند سے بگاڑ نا سخت کبیرہ عظیم گناہ ہے۔ احمد و بزار وابن حبان وابوداؤد و نسائی سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عن ابي هريرة قال قال رسول الله صلى الله علیه وسلم ليس منا من خبب امرأة على ،، زوجها او عبدا علی سیده (۲) یعنی ہم میں سے نہیں وہ جو عورت کو اپنے شوهر سے یا غلام کو اپنے آقا سے بگاڑ دے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ابلیس لعین اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر شیاطین کو فساد کے لئے بھیجتا ہے تو اس سے قریب تر وہ ہوتا ہے جس کا فتنہ زیادہ عظیم ہو، شیاطین آتے ہیں اور ہر ایک کہتا ہے کہ میں نے یہ کیا ، یہ کیا پھر ایک آتا ہے جو کہتا ہے میں نے مرد کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ اسے اس کی بیوی سے بگاڑ دیا۔ رواہ ابو یعلی ومسلم وغیرہ عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ابليس يضع عرشه على الماء ثم يبعث سراياه يفتنون الناس فادناهم منه منزلة اعظم فتنة يجئ احدهم فيقول فعلت كذا و كذا فيقول ما صنعت شيئا قال ثم يجئ احدهم فيقول ما تركته حتى فرقت بینه و بین امرأته قال فيدينه منه ويقول نعم انت قال الاعمش اراه قال فلیتزمه. رواه مسلم (۳) تو اس فعل بد انجام، انجام دینے والے مددگار شیطان لعین ہوئے۔ والعیاذ بالدرب العلمین۔ ان پر اپنے اس فعل سے تو بہ لازم اور حتی الامکان عورت کو شوہر سے راضی کرنا ضرور ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی