پاگل شوہر سے علیحدگی اور دوسری شادی کے لیے شرعی حکم
حمیدہ بانو کی شادی ۱۹ جون ۱۹۷۷ء کو شیخ عبد اللہ سے ہوئی تھی ۔ شادی کے چار مہینے کے بعد شیخ عبد اللہ پاگل ہو گیا۔ اس درمیان حمیدہ بانو حاملہ بھی ہوگئی۔ عبداللہ کا علاج کیا گیا مگر وہ اچھا نہ ہوسکا۔گھر والوں نے مجبور ہوکر اسے پاگل خانے میں داخل کر دیا۔ ڈاکٹر نے اس کے پاگل ہونے کی تصدیق کر دی اور پاگل کا سرٹیفکیٹ بھی دے دیا۔ اور وہ آج تک پاگل خانے ہی میں ہے۔ سال چھ مہینے میں بھی کبھی گھر لاتے ہیں پھر دو چار روز میں وہیں پہنچا دیتے ہیں۔ کیونکہ اسکا پاگلپن دور نہیں ہوتا۔ اب لڑکی کو سہارا دینے والا کوئی نہیں ہے۔ عبد اللہ کے دو بھائی اور والدہ ہیں ۔ والد کا انتقال ہو چکا ہے ۔ ان میں سے کوئی بھی لڑکی کو سنبھالنے کا ذمہ نہیں لیتا ہے۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ تم اپنا انتظام کرلو۔ اب لڑکی کے والدین لڑکی کی دوسری شادی کرانا چاہتے ہیں مگر لڑ کی اس سے چھٹکارا کیسے حاصل کرے جو دوسری شادی کر سکے۔ جبکہ لڑکا پاگل ہے۔ الحاصل اب لڑکی کو طلاق لینے کی کیا صورت ہے جس سے وہ آزاد ہو کر دوسری شادی کر سکے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی! المستفتی: عبد القیوم رضوی، پیش امام قمر الدین مسجد گوہر بیگ اسٹریٹ ضلع پونہ، کیمپ نمبر (۱) -۴۱۱۰۰۱
الجواب: اگر واقعہ یہ ہے کہ شوہر عرصہ دراز سے مجنون ہے اور اچھا نہیں ہوتا ہے اور عورت کو بغیر نکاح ثانی کوئی چارہ نہیں تو امام محمد علیہ الرحمہ کے مذہب پر عمل کی اجازت ہے۔ ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرع کے پاس استغاثہ کرے اسے جب تحقیق ہوگی کہ شوہر کا جنون مطبق (ملازم وممتند ) ہے وہ عورت کو مجلس میں خیار دے گا کہ چاہے تو شوہر کو اختیار کرے چاہے اپنے نفس کو ۔ اگر شوہر کو اختیار کیا تو تفریق نہ ہوگی اور اگر اپنے نفس کو اختیار کرے گی تو حاکم مرد و زن میں تفریق کر دیگا جس کے بعد عدت گزار کر عورت کو دوسرے سے نکاح حلال ہوگا۔ ہندیہ میں ہے: ”وقال محمد رحمه الله تعالى ان كان الجنون حادثا يؤجله سنة كالعنة ثم يخير المرأة بعد الحول اذا لم يبر أوان كان مطبقا فهو كالجب و به نأخذ كذا في الحاوى القدسی (1) (1) الفتاوى الهندية كتاب الطلاق الباب الثاني عشر في العنين ، ج ۱، ص ۵۷۹، دار الفکر بیروت جہاں حاکم نہ ہو اس جگہ سنی صحیح العقیدہ سب سے بڑا عالم مرجع فتویٰ قائم مقام حاکم کے ہے۔ حدیقہ ندیہ میں ہے: اذا خلى الزمان من سلطان ذى كفاية فالامور مؤكلة الى العلماء ويلزم الامة الرجوع اليهم ويصيرون ولاة-ملخصا ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی