شوہر کی جدائی کے ڈیڑھ سال بعد بچہ پیدا ہوا، آیا ثابت النسب ہے یا نہیں؟
جناب مولا نا اختر رضا خاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد سلام کے معلوم ہو کہ مجھے ایک فتویٰ چاہئے میں بریلی شریف اعلیٰ حضرت صاحب کے چاہنے والوں میں سے ہوں میں بہت غریب ہوں میرا قصہ ہے کہ میں گونڈہ یوپی کا رہنے والا ہوں میں دہلی میں کام کرتا ہوں ۲۶ مئی ۱۹۸۳ء کو اپنے گھر گیا۔ واپس دہلی آ گیا ہماری عورت کے ایک لڑکی پیدا ہوئی ۱۸ ؍ دسمبر ۱۹۸۴ء کو ہمارے چا جو عبد العلیم بھائی سے مرید ہیں انہوں نے کہا کہ یہ لڑ کی ناجائز ہے اور میرے سبھی گاؤں والے میرا حقہ پانی بند کر دئے ایک فتویٰ دیو بند کے یہاں سے نکلوایا تو میرے چا صاحب میرے گاؤں والے انکار کر گئے نہیں مانا اور آج تک بند ہے پھر میرے او پر جرمانہ ایک سو اکیاون رو پید اور پچیس فقیروں کو کھلاؤ میلا دکر و بکرانیاز کر وجب انتظام کیا قریب دو ہزار کا نقصان ہوا کسی نے وہ کھانا کھایا ہی نہیں اور نہ ہی میرا حقہ پانی کھلا اور میرے گاؤں میں مسجد ہے امام نہیں رہنے پاتے مسلمان ہیں مسجد خالی ہے کوئی پڑھنے والا نہیں میرا اچھا کافی تعلیم حاصل کئے ہیں اب آپ میرے حال پر غور فرما کر ایک فتویٰ بھیج دیں۔ المستفتي بتجمل حسين دیوان منشی شوپ نیو دہلی ۱۷
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ آپ کا نکاح اس عورت سے قائم ہے تو وہ بچہ شرعاً آپ ہی کا قرار پائے گا اور آپ سے اس کا نسب بے لعان شرعی منتفی نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے: الفراش على اربع مراتب و قد اكتفوا بقيام الفراش بلا دخول كتزوج المغربي ،، بمشرقية بينهما سنة فولدت لستة اشهر مذتزوجها لتصوره كرامة واستخداما فتح (1) (1) الدر المختار، کتاب الطلاق، باب العدة ج ۵ ص ۱۴۵ ، دار الكتب العلمية بيروت رد المحتار میں ہے: قوله (على اربع مراتب) ضعيف وهو فراش الامة لا يثبت النسب فيه الا بالدعوة ومتوسط وهو فراش ام الولد فانه يثبت فيه بلا دعوة لكنه ينتفى بالنفى و قوى وهو فراش المنكوحة ومعتدة الرجعى فانه فيه لا ينتفى الا باللعان و اقوى كفراش معتدة البائن فان الولد لا ينتفى فيه اصلا لان نفیه متوقف على اللعان وشرط اللعان الزوجية - اه (۱) اور ہندیہ میں ہے: النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد والحكم فيه انه يثبت النسب من غير دعوة ولا ينتفى بمجرد النفى و انما ینتفى باللعان فان کانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفى نسب الولد كذافى المحيط (۲) لہذا صورت مسئولہ میں اگر شوہر بچے کے لئے نسب کی خود سے نفی کرے تو اصلا نہ سنیں گے اور بچہ اس کا قرار پائے گا جبکہ اقل مدت حمل ۶ ماہ کے بعد ہوا ہو تو جب شوہر کی نفی سے اس کا نسب ملکی نہیں ہوسکتا تو اوروں کا اسے ناجائز بتا نا کیا اثر انداز ہو گا؟ پھر آپ کا بائیکاٹ فی الواقع اگر وجہ شرعی نہیں رکھتا تو محض ظلم ہے جس سے ان لوگوں پر تو بہ لازم ہے اور آپ سے عذر خواہی بھی۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ / ذی الحجه ۱۴۰۴ھ