جب تک شوہر کی موت یا اس کی جانب سے طلاق کی یقینی خبر نہ ملے، عورت کو دوسرا نکاح حلال نہیں ہے
بحضور فیض گنجور محترم المقام قابل صد احترام مفتی ذیشان جناب مفتی اختر رضا خاں صاحب قبلہ مدظله ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ خدمت اقدس میں گزارش یہ ہیکہ زید کے پاس ایک لڑکی ہے اس کی شادی پہلے ہی ہو چکی ہے اور اس کے پاس ایک بچہ بھی ہے اور دیگر بات یہ ہے کہ جب سے اس کا شوہر شادی کر کے گھر سے باہر نکلا اس وقت سے لے کر آج تک گھر کو لوٹا نہیں ہے۔ تقریباً ۷ سال سے زیادہ ہو گیا ہے، ہر جگہ پتہ بھی لگایا گیا لیکن پتہ نہیں لگا۔ آدمی واپس چلا آیا، لڑکی کا رخ دوسری طرف جارہا ہے، کہتی ہے کہ میں دوسری شادی کروں گی مگر لوگوں کا مشورہ ہوا کہ شادی کرنے سے پہلے کوئی مفتی صاحب سے فتویٰ منگایا جائے، مفتی صاحب جو جواب دیں گے اس کے مطابق ہم لوگ عمل کریں گے۔ اس لئے حضور والا سے گزارش ہے کہ اس لڑکی کو دوسری شادی کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ یا کس طریقہ پر ہوگا ؟ شریعت مطہرہ میں جو حکم ہو، جواب تحریر کر دیں ۔ عین نوازش ہوگی ! المستفتی: محمد عیسی رضوی ساکن موضع کچور، پوسٹ دادن پیر ضلع سیتا مڑھی
الجواب: جب تک شوہر کی موت یا اس کی جانب سے طلاق کی یقینی خبر نہ ملے ، عورت کو دوسرا نکاح حلال نہیں ہے۔ حدیث میں ہے: ’امرأةالمفقودامرأته حتى ياتيها البيان (1) گمشدہ کی عورت اسی کی عورت ہے جب تک اسے صاف خبر نہ ملے اور اگر ضرورت ملجئہ ہے تو ہمارے فتویٰ کی نقل ہمراہ روانہ ہے، اس پر عمل کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ/ در سفر