مطلقہ کی عدت کی شرعی حیثیت اور اسلامی قانون کی عظمت کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین در میں مسائل ذیل کہ : (1) مطلقہ کی عدت عوام میں تین مہینے تیرہ دن مشہور ہے۔ اس کی شرعاً کیا حیثیت ہے؟ (۲) اسلامی قانون کو عرش کی پارلیامنٹ کا قانون کہنا کیسا ہے؟ (۳) مسلم پرسنل لاء یعنی اسلامی شریعت میں مطلق مداخلت چاہنے یا اُسے قابل ترمیم و تنسیخ سمجھنے والا کیسا ہے؟ المستفتی بمفتی محمدعبد المبین نعمانی قادری رضوی دار العلوم قادریہ، چریا کوٹ، اعظم گڑھ
الجواب: (1) اس کی شرع میں کوئی اصل نہیں ملتی ، عوام میں مشہور مقولہ ہے، شرعاً مطلقہ کی عدت تین حیض کامل ہے یہ تین حیض جس قدر مدت میں آئیں اتنی مدت تک عورت عدت سے باہر نہ ہوگی اگر چہ سال بھر گزر جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) جامع الترمذی، ابواب النكاح، ج ۱، ص ۱۳۳، مجلس برکات (۲) الله عز وجل حاکم حقیقی ہے اور حکم حقیقہ اسی کا ہے۔ قال تعالیٰ: (إن الحكم الأيله - الآية } () اس کے حکم میں کوئی اس کا شریک نہیں اور وہ اپنے حکم میں غور و خوض و بحث کا محتاج نہیں اور پارلیامنٹ کا قانون چند لوگ مل کر غور و خوض و بحث کے بعد بناتے ہیں تو اسلامی قانون کو جنکی اصل اول کتاب اللہ ہے جس میں احکام خداوندی ہے، عرش کی پارلیامنٹ کا قانون کہنا احکام الہیہ کو اپنی پارلیامنٹ کے قانون پر قیاس کرنا ہے جو قطعا باطل اور جناب الہی میں شدید گستاخی ہے۔ اگر قائل نے پارلیامنٹ سے تشبیہ دینے کے لئے کہا تو یہ بے شک اس کا کفر صریح ہوا اور اس پر تو بہ و تجدید ایمان وغیرہ لازم اور ایسا جملہ بولنا بہر حال منع ہے کہ ایہام اہانت رکھتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) وہ مسلمان نہیں۔ قال تعالى : {وَمَنْ لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } () جو اللہ کے اتارے کے مطابق حکم نہ دیں تو وہی لوگ کافر ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی