بہنوئی کے ساتھ حلالہ اور حلالہ کرانے والے کا حکم؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید جس کا نام احمد نبی ہے، اپنی زوجہ سارہ کو طلاق مغلظہ دیا۔ مدت عدت پوری ہونے کے بعد زید نے ہندہ کا حلالہ ہندہ کے سگے بہنوئی کے ساتھ کرایا ، سارہ کی بہن بہنوئی کے نکاح میں موجود ہے۔ زید نے غلط حلالہ کی خبر کسی کو نہ دی۔ زید نے سارہ کو اپنے ساتھ نکاح پڑھوالیا۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ ہندہ کا حلالہ غلط ہوا ہے اور اپنے بہنوئی سے حلالہ کیا ہے، زید سے کہا گیا کہ ہندہ کا دوبارہ حلالہ کراؤ ، اس کا حلالہ نہیں ہوا ہے اور اس کو اپنے پاس سے جدا کرو۔ اس پر زید نے جواب دیا کہ جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔ تقریبا ڈھائی سال ہو گئے ، زید اپنے گھر میں ہندہ کو ز وجہ بنائے رکھا ہے۔ لہذا یہ حلالہ کیسا ہے؟ اس کا حلالہ ہوا یا نہیں ؟ زید پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ المستفتی: عبدالمجيد موضع بنس ڈاکخانہ سر دارنگر، پیلی بھیت (یوپی)
الجواب: صورت مسئولہ میں حلالہ نہ ہوا۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت کسی سے نکاح صحیح کرے، وہ ہمبستری کر کے طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے پھر عورت بعد عدت پہلے سے نکاح کرے اور صورت مسئولہ میں نکاح باطل ہوا جبکہ ہندہ کی سگی حقیقی بہن محلل ( بہنوئی ) کے نکاح میں تھی اور اس ہندہ سے جو ولی اس صورت میں واقع ہوئی ، حرام بد کام بدانجام ہوئی اور اب اس پر اپنی منکوحہ سے ولی حرام ہے ، جب تک کہ دوسری بہن ہندہ کی عدت نہ گزرجائے۔ رد المحتار میں ہے: ” والثانی باطل وله وطئ الاولى الا ان يطأ الثانية فتحرم الاولى الى انقضاء عدة الثانية كما لو وطئ اخت امرأته بشبهة حيث تحرم امرأته مالم تنقض عدة ذات الشبهة عن البحر )) اور اگر ہندہ کی بہن کو بہنوئی نے طلاق دے دی تھی اور وہ ہنوز عدت میں تھی تو نکاح فاسد ہوا اور اس صورت میں بھی وہی حکم ہے کہ حلالہ نہ ہوا اور اگر ہندہ کی بہن اسکے محل کی منکوحہ ہونہ معدہ تو حلالہ صحیح ہوا ۔ بالجملہ حلالہ میں نکاح صحیح ہونا ضرور ہے۔ تنویر اور درمختار میں ہے: لا ينكح مطلقة من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه بها أى بالثلاث لو حرة وثنتين لو أمة ولو قبل الدخول حتى يطأها غیره ولو الغير مراهقا يجامع مثله وقدره شیخ الاسلام بعشر سنین او خصیا او مجنونا او ذميا لذمية (بنكاح) نافذ خرج الفاسد والموقوف فلونكحها عبد بلا اذن سیده ووطئها قبل الاجازة لا يحلها حتى يطأها بعدها، ملخصا فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۳۰ رشوال المکرم ۱۳۹۶ھ