دس سال سے لاپتہ شوہر کی بیوی کے دوسرے نکاح کا شرعی حکم
دس سال کی مدت سے شوہر کا کوئی پتہ ونشان نہیں ہے تو عورت کے لئے کیا حکم ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : ایک لڑکی جس کا نام آسمہ بی ہے، اس کی شادی زید کے ساتھ ہوئی تھی ۔ مگر شادی کے سال بھر تک اپنی منکوحہ کے ساتھ رہا اس کے بعد قریب دس سال ہو گیا مگر اس دس سال کی مدت میں زید کا کوئی پستہ ونشان نہیں ہے۔ اب آسمہ بی غیر سے شادی کر سکتی ہے یا نہیں؟ یازید ہی کے مکان میں اپنے وقت کو گزاری؟ آسمہ بی کے والدین بہت پریشان ہیں اس لئے حضور سے گزارش ہے کہ بروئے شریعت تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں۔ آپ کا شکر گزار : قلب حسین نیپالی نوری مقام مشیبا نور، پوسٹ مڈھوا پور ضلع مدھوبنی ، بہار
الجواب: مفقود کی بیوی بدستور اسی کی بیوی رہے گی تا وقتیکہ ایک مدت مدیده ( کہ مفقود کی عمر کے ستر سال گزر جانا نز دائمہ حنفیہ مقرر ہے ) کے گزر جانے سے یا کسی اور طریقہ سے اس کی مدت کا تیقین نہ ہولے، یا اس کی طرف سے عورت کو طلاق کی خبر معتبر نہ ملے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں عورت کو دوسرا نکاح حلال نہیں کہ ہمارے ائمہ حفیہ کے نزدیک حکم یہ ہے کہ شوہر مثلا اگر چالیس برس کی عمر میں گما تو عورت پر لازم ہے کہ تیس برس انتظار کرے اس مدت میں شوہر کی موت یا اس کے طلاق دینے کا علم ہو جائے تو عورت بعد عدت مختار ہے۔ اور اگر اس مدت میں کچھ پتہ نہ چلے تو مدت پوری کرلے۔ جب یہ مدت گزر جائیگی تو عورت عدت وفات گزار کے مختار ہوگی کہ جس سے نکاح جائز ہو، کر لے۔ مگر جب ضرورت ملجنہ ہوتو امام مالک کے مذہب پر عورت کو عمل کی اجازت ہے۔ ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرع کے حضور آئے ، وہ بعد ثبوت چارسال مدت تلاش شوہر کے لئے مقرر کرے گا اس مدت میں شوہر نہ ملے تو عورت ۴ سال بعد پھر حاضر ہوگی۔ اب حاکم شوہر کی موت کا حکم فرمائے گا۔ عورت کو چار ماہ ، دس دن (عدت وفات ) کا حکم دے گا۔ جس کے بعد عورت کو دوسرے نکاح کا اختیار ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف ور جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ يؤجل العنين سنة فان وصل اليها والافرق بينهما ولها الصداق ( معجم طبرانی) باب الفخ