زوجین میں سے کسی کا معیوب ہونا سبب فسخ نکاح نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلہ میں کہ : مؤرخہ ۱۹ مئی ۱۹۶۳ء کو میری لڑکی مسماۃ بی بی کا نکاح مسمی محمد حسین پسر رفیق الدین ساکن قصاب پورہ دہلی کے ساتھ ہوا اور وہ ۱۹۷۰ ء تک اپنے شوہر کے ساتھ رہی، اس کے تین بچے ہوئے۔ ۱۹۷۰ء میں جب تیسری لڑکی ہوئی تو سوا ماہ بعد وہ حسب دستور میرے یہاں آئی ۔ اس کے بعد اس کی سرال سے کوئی لینے نہیں آیا۔ جب کافی دن ہو گئے تو میں خود گیا اور اپنے سمدھی وغیرہ سے کہا مگر پھر بھی کوئی نہیں آیا۔ دو سال تک میں برابر کوشاں رہا۔ مگر کچھ نتیجہ نہیں نکلا۔ اسی دوران میں نے وہاں چودھری صاحبان سے کہا۔ انہوں نے پنچایت کی تاریخ کی مجھے بھی اطلاع دی، میں ہر تاریخ پر گیا مگر میرے سیدھی وغیرہ کوئی نہیں آئے۔ اس کے بعد میں نے جوابی رجسٹری سے بھی اطلاع دی مگر انہوں نے وہ بھی وصول نہیں کیا۔ (سنا گیا ہے کہ لڑکے کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے ) ۔ اب ایک لڑکا اور ایک لڑکی تو اپنے دادا کے یہاں ہیں اور جولڑ کی ۱۹۷۰ء میں پیدا ہوئی تھی وہ لڑکی ماں کے ساتھ میرے پاس ہے۔ اس آٹھ برس میں نہ تو لڑکی کو لے گئے اور نہ ہی نان و نفقہ دیا۔ براہ کرم تحریر فرمادیں کہ ان حالات میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ امید کہ مع حوالہ کتب جواب عطا فر ما یا جائے گا۔ بینوا توجروا المستفتی : علاؤالدین، مکان نمبر 184 جوان محلہ لا ہر لی، میرٹھ کینٹ 250001
الجواب: ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب میں جنون شوہر اصلاً سبب، فسخ نکاح کا نہیں۔ درمختار میں ہے: لايتخير احدهما اى الزوجين بعيب الآخر ولو فاحشاكجنون-الخ (1) ہندیہ میں ہے: اذا كان بالزوج جنون او برص او جذام فلاخیار لهاکذافی الکافی‘(۲) ہمارے ائمہ سے امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانب خیار گئے۔ واقعی اگر سچی ضرورت بلا مکر وفریب متحقق ہو تو اُن کے مذہب پر عمل ممکن ہے، اُس کی رو سے عورت کو حکم ہے کہ حاکم شرع کے حضور استغاثہ کرے، اُسے جب تحقیق ہو کہ شوہر کو واقعی بعد نکاح جنون حادث ہوا ہے تو وہ ایک سال کی مہلت دے گا۔ اس میں اگر شوہر اچھانہ ہو تو پھر عورت مدعیہ ہو، اب حاکم اُسے اختیار دے کہ چاہے اپنے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو اختیار کرے۔ مجلس بدلنے سے پہلے اگر اس نے اپنے شوہر کو اختیار کیا تو ٹھیک ورنہ مجلس بدل گئی بایں طور کہ حاکم اُٹھ گیا یا عورت اُٹھ گئی یا کسی نے اس کو اٹھا دیا تو اب اسے اصلاً اختیار نہ رہا اور اگراسی مجلس میں اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو حاکم تفریق کر دے گا۔ اور یہ تفریق ایک طلاق بائن قرار پائے گی ۔ اور عورت بعد عدت آزاد ہوگی، جس سے چاہے نکاح کرے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ حاکم کو جنون شو ہر متحقق ہو اور اس کا مطبق ہونا ثابت نہ ہوا اور اگر اسے ثابت ہو کہ شوہر کا جنون مطبق یعنی لازم وممند ہے مدتہائے دراز گزرگئیں، اُسے کبھی آرام نہ ہوا تو سال کی مہلت نہ دے گا بلکہ فورا اختیار دے گا۔ ہندیہ میں ہے: ” قال محمد رحمه الله تعالى : ان كان الجنون حادثا، يؤجله سنة كالعنة ثم يخير المرأة بعد الحول اذا لم يبرأ وان كان مطبقا ، فهو كالجب، و به ناخذ كذا في الحاوى القدسی (۳) (1) الدر المختار باب العنين وغيره، ج ۵، ص ۱۷۵ دار الكتب العلمية بيروت (۲) الفتاوى الهندية باب العنين ، ج ۱، ص ۵۷۹، دار الفکر بیروت (۳) الفتاوى الهندية، باب العنين ، ج ۱، ص ۵۷۹، دار الفکر بیروت جہاں حاکم شرع نہ ہو اُس جگہ کا سپاسنی صحیح العقید ہ عالم جو علم فقہ میں سب سے زیادہ ماہر ہو، حاکم شرع کے قائم مقام ہے، کمافی الحدیقۃ الندیہ عن فتاویٰ الامام العتابی علیہ الرحمۃ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح والمجیب مصیب ومثاب قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی یکم رجب المرجب ۱۳۹۸ھ