شوہر کے دو طلاقوں کے اقرار اور تین کے انکار کی صورت میں حکمِ رجعت
لیکن خودشاکر کا کہنا ہے کہ میں نے دودفعہ طلاق دی ہے اور یہ طلاقیں غصے میں دی ہیں۔ شاکر کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجھے میری بیوی سے پہلے بھی بہت سی شکایتیں تھیں جس کی وجہ سے ایسا کہا ہے۔ ایسی صورت میں شرعی حکم سے مطلع فرمانے کی زحمت فرمادیں۔ اگر طلاق بائن واقع ہوگئی ہے تو عدت کے بعد نکاح ثانی کیا جائے یا ویسے ہی رجوع کر سکتے ہیں۔ جواب سے جلد از جلد مطلع فرماویں۔ عین نوازش ہوگی ! المستفتی : محمد اسماعیل خاں یوسف زئی ٹیلر ماسٹر ٹونک والے گرام آسن پور ، سوائی مادھو پور ، ( راجستھان )
الجواب: طلاق کا ثبوت بصورت انکار شوہر گواہان عدول کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے۔ لہذا جبکہ شوہر تین طلاقوں یا زائد کا منکر ہے تو ان کا ثبوت محض بیوی کے دعویٰ سے نہ ہوگا اور اس کے اقرار سے دو طلاقیں رجعی ثابت، تو وہی دور جعی واقع ہونے کا حکم ہے۔ اور شوہر کو عدت میں رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو متقی مردوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی، اسے اپنے نکاح میں لیا اور بیوی کو بھی بتادے کہ میں نے تم سے رجعت کر لی ہے۔ ہندیہ میں ہے: اذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية او تطليقتين فله ان يراجعها في العدة رضيت بذالک او لم ترض كذافى الهداية (1) اسی میں جوہرہ نیرہ سے ہے: ،، فالسني: أن يراجعها بالقول ويشهد علی رجعتها شاهدین و یعلمها بذالک (۲) اور یہ اس صورت میں ہے جبکہ واقعی شوہر نے دو ہی طلاقیں دی ہوں اور اگر اس نے تین طلاقیں یکبارگی دیں یا پہلے بھی ایک دے چکا ہے تو اب رجعت نہیں ہوسکتی، بلکہ عورت شوہر کو ایسی حرام ہو گئی کہ بعد عدت جب تک دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد جماع ہو کر طلاق نہ ہولے یا اس کی موت یا معاذ اللہ (۱) الفتاوى الهندية كتاب الطلاق ، ج ۱، ص ۵۳۳، دار الفکر بیروت (۲) الفتاوى الهندية كتاب الطلاق، ج ۱، ص ۵۳۲ ، دار الفکر، بیروت روت سے نکاح فسخ ہو کر عدت نہ گزر جائے شاکر کو اس سے نکاح حرام تعلمی ہے۔ اللہ تعالی سمیع و بصیر علیم و خبیر ہے، اس سے کچھ چھپا نہیں۔ لہذا جھوٹ بولنا کچھ کارگر نہیں اور اس سے خدا کا حرام حلال نہ ہوگا بلکہ دو ہر او بال ہوگا۔ پھر جبکہ عورت دو سے زائد طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو اپنے اوپر قابودے، بلکہ اسے لازم ہے کہ اس سے دور بھاگے۔ ہندیہ میں ہے: واذا شهد عند المرأة شاهدان عدلان أن زوجها طلقها ثلاثا وهو يجحد ذالك ، ثم ماتا او غابا قبل ان يشهد عند القاضى ، لم يسعها ان تقوم معه وان تدعه يقربها ، فان حلف الزوج على ذالك والشهود قد ماتوا فردها القاضى عليه، لا يسعها المقام معه، وينبغى لها ان تفتدى بمالها او تهرب منه (1) اور اب شوہر کو چاہئے کہ اس کی گلو خلاصی کر دے یوں کہ عدت گزرنے دے اور رجعت نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ار جمادی الآخره ۱۴۰۵ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی