شوہر کے پاگل ہو جانے پر فسخ نکاح کا حکم اور شرائط
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: میری شادی یعنی میں زبیدہ کی شادی زید کے ساتھ ہوئی وہ شادی کے وقت بالکل مریض تھے یعنی بیمار تھے ایسی حالت میں میری شادی ہوئی میں جب ان کے گھر گئی تو یہاں تک کہ کسی طرح کی وہ مجھ سے بات بھی نہیں کر سکے میں نے بہت کوشش کی لیکن وہ بول بھی نہیں سکے اور آج اس وقت بالکل ہی پاگل ہو گئے ہیں ۔ اس صورت میں مجھے مسئلہ کی رو سے آگاہ کریں تا کہ میں کوئی راستہ اختیار کروں یعنی پھر دوسری شادی کرسکتی ہوں یا نہیں؟
سائله: زبیدہ خاتون، پرسونی ہمارے ائمہ حفیہ کے نزدیک اصل مذہب میں زوجہ کو اس صورت میں خیار فسخ نکاح نہیں۔ در مختار میں ہے: (1) لا يتخير احدهما أى الزوجين بعيب الآخر “ مگر جبکہ واقعۂ صورت ضرورت شرعیہ ملجئہ کی ہو تو امام محمد علیہ الرحمہ کے مذہب پر عمل کی اجازت ہے ان کا مذہب یہ ہے کہ اگر جنون مطبق ہو ( جسکو مدت طویلہ گزرگئی ہو اور بیچ میں کبھی اچھا نہ ہوا ہو ) تو حاکم عورت کو اختیار دے گا اگر شوہر کو اختیار کیا تو مطالبہ فسخ نہیں کر سکتی اور اگر اپنے نفس کو اختیار کیا توفی الفور تفریق کر دے گا اور اگر جنون حادث ہو ( یعنی افاقہ بھی ہوتا ہو ) تو حاکم شرع ایک سال مدت علاج (1) الدر المختار، کتاب الطلاق، باب العنین، ج ۵، ص ۱۷۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت مقرر کرے گا اس دوران ٹھیک ہو جائے تو خیار ساقط دور نہ عورت پھر حاکم کے حضور حاضر ہو وہ اسے اسی طرح اختیار دے گا اور جبکہ عورت اپنے نفس کو اختیار کرے گی وہ تفریق فرما دے گا۔ ہندیہ میں ہے: وقال محمد ان كان الجنون حادثا يؤجله سنة كالعنة ثم يخير المرأة بعد الحول اذالم يبر أوان كان مطبقا فهو كالجب لہذا اگر سچی سچی ضرورت شرعیہ ہو اور بغیر فسخ کوئی چارہ نہ ہو تو عورت اپنی جگہ کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ عالم مرجع فتوی کی طرف رجوع کرے وہ مطابق شرع جو فیصلہ فرما ئیں اس پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۵ / ذیقعده ۱۴۰۲ھ