کنایہ الفاظ (مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں) سے طلاق کی نیت کا حکم
رضو یه سوداگران بریلی شریف سے حاصل کیا تھا جو کہ استفتائے ہذا کے ساتھ نتھی ہے۔ امام صاحب مسجد کنا کور ۶،۸،۶،۳ کے مرتکب ہیں نہ تو بہ ہی کی نہ معافی ہی مانگی۔ سوال ۱، ۴، ۵ کے مرتکب بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں۔ ایک واقعہ زید کا شب ۲۷ شوال میں گزرا، زید نے بیوی کو مارا پیٹا امام مسجد نے بروز جمعہ سب نمازیوں کے سامنے یہ سوال لکھا جو کہ ساتھ میں نتھی ہے۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کی بیوی نے زید کی نافرمانی کی، زید نے بیوی کو مارا پیٹا، کھینچ کر مکان کے باہر کر دیا اور کہا: میں تجھے ایک سکنڈ نہیں رکھوں گا، تیرا منہ دیکھنا مجھے روانہیں“۔ زید کی بھاوج آئی اور زید کی بیوی کو پکڑ کر اندر لے گئی تو زید نے کہا: ”اگر یہ گھر کے اندر رہے گی تو میں گھر سے باہر چلا جاؤں گا، مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس میں زید اور اس کی بیوی کے لئے کیا حکم ہے؟ فقط آپ کا خادم : شمس الاسلام موضع ، کنا کور ، ڈاکخانہ ، خاص ،ضلع، پیلی بھیت
الجواب: زید نے اگر یہ جملہ : ” مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں طلاق کی نیت سے کہا تو اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ۔ عدت کے اندر خواہ عدت کے بعد نکاح جدید بمہر جدید برضائے زن کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ پہلے دو طلاقیں نہ دی ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاءمنظر اسلام،محلہ سوداگران، بریلی ۲۸ رذی قعده ۱۴۰۰ھ فتولی جانے پر امام مسجد النگا چاند پور نے کہا کہ حکم نیت پر ہے، معلوم کیا جائے۔ عثمانی نے کہا: زید کو بلا کر پوچھا جائے ، زید بلایا گیا زید نے خدا کی قسم کھائی کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی، مگر کنا کوری مسجد کا امام نہ مانا اور اولاد کی قسم کا مطالبہ کیا تو ایک اسکھیرا اکے تھے انہوں نے کہا کہ اولاد کی قسم شرعی قسم نہیں ۔ امام مسجد کنا کور نے کہا کہ اولاد کا احساس ہوتا ہے اور خدا کی قسم جھوٹی بھی کھا لیتے ہیں۔ معاذ اللہ تعالیٰ ، حضور اس صورت میں زید کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور نکاح جدید کا حکم ہے یا نہیں؟ اور امام مسجد اور اس کے ساتھیوں کے لئے کیا حکم ہے؟ المستفتی: محبوب علی شاہ نوری رضوی غفرلہ، ۱۳ رذی الحجہ ۱۴۰۰ھ الجواب: امام مذکور کو اس کی کیا فکر ہے کہ خدا کی قسم جھوٹی بھی کھا لیتے ہیں۔ شریعت نے محل قسم کا اعتبار فرمایا ہے تو کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کا اعتبار نہ کرے اور اعتبار نہ کرے گا تو کسی کا کیا بگاڑ یگا؟ اس جگہ بھی شوہر کا بیان کہ میری نیت طلاق کی نیت تھی ، شرعا بقسم معتبر ہے۔ در مختار میں ہے: «والقول له بيمينه في عدم النية (1)» اور بیٹے کی قسم دلانا اسے جائز نہ تھا اور ظاہر کا اعتبار اور سوء ظن سے احتراز لازم تھا۔ ظاہر پر حکم کرنے کا امر تو اس محبوب خدا کو ہوا جو دانائے غیوب ہے۔ حدیث میں ہے: «امرت بالاخذ بالظاهر والله يتولى السرائر (۲)» امام مذکور کیا حضور سے زیادہ معاذ اللہ دانا ہے۔ یا ان سے زیادہ متقی ہے؟ ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ امام مذکور پر تو بہ لازم اور اس کے ہمنواؤں پر بھی اور واقعہ اگر شوہر نے جملہ مذکور نہیں رکھوں گا“ سے زیادہ کچھ نہ کہا تو اصلاً طلاق نہ ہوئی ورنہ جبکہ وہ جملہ کہا ہو کہ ”مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں“ تو نیت طلاق پر حکم طلاق موقوف ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹رذوالحجہ ۱۴۰۰ھ