زنا سے متعلق شہادت شرعیہ اور ثبوت زنا!
علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ : محبوب کی لڑکی سکرونہ نام کی ہے باپ اور لڑکی کو ایک بستر پر ہم بستر ہوتے ہوئے محمد شہید نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور گواہ موقع پر نہیں تھے یہ بات آدھی رات کی تھی ۔ محمد شہید نے پہنچوں کے در میان پانچ مرتبہ قسم کھایا کہ یہ بات سچ ہے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اگر بات غلط ہو تو میرا حشر کافروں کے ساتھ ہو یہ سچ ہے اس پر پنچوں نے محمد شہید کی قسم وغیرہ کو نہ مانتے ہوئے محبوب وسکر و نہ کو اپنالیا ہے تو کیا حکم فرماتے ہیں محمد شہید پر برادری پابندی لگا رہی ہے لہذا آپ کیا فرماتے ہیں؟ گواه: محمد حسین وغیرہ
الجواب: صورت مسئولہ میں اس پر لازم تھا کہ وہ ان دونوں کو موقع پر روکتا اور جب کہ موقع کے چار مینی گواہ زنا پر کہ اسے ایسا دیکھتے جیسے سرمہ دانی میں سلائی رکھتا ہے۔ نہ زانی نے دومرد عادل یا ایک مرد دو عورت عدول کے سامنے زنا کا اقرار کیا تھا تو اس امر کو چھپاتا کہ بے ثبوت شرعی کسی گناہ کی نسبت کی شرعاً اجازت نہیں اب جب کہ یہ مدعی ہوا تو مدعی علیہ پر نقسم انکار لازم ہے۔ حدیث شریف میں ہے: البينة على المدعى و الیمین علی من انکر (۱) اگر تقسیم انکار کرے۔ ( اور یادر کھے کہ جنہوں نے جھوٹی قسم کھائی سخت تباہ کن جرم ہے حدیث شریف میں ہے کہ جھوٹی قسم گھر کو ویران کر دیتی ہے ) تو مدعی کا قول ثابت نہ ہوگا اور اگر قسم کھانے سے مکریں تو یہ ان کے جھوٹے ہونے کی علامت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) فقیر محمد اختر رضا خان قادری از هری غفرله السنن الكبرى للبيهقى باب البينة على المدعى ، حدیث - ۲۱۷۳۳ ، دائرۃ المعارف النظامية حيدر أباد