زنا کی جھوٹی تہمت اور شوہر کی خاموشی کے شرعی حکم کے بارے میں
زید اپنے بیان میں کہا کہ بکر چور ڈاکو ہے جو بیان اپنی عورت کے متعلق دیا پیر دبانے کا اسی بات پر میری لڑکی سے جھگڑا ہوا۔ اس سلسلے میں جو الزام میری زوجہ پر لگا یاوہ بالکل غلط ہے اور غیر شرعی اور نا جائز جھوٹا الزام ہے۔ جب زید کی بیوی سے بکر کے الزام پر باز پرس ہوئی تو زید کی بیوی نے کہا کہ میں اس الزام کی تردید کرتی ہوں ، عزت دار عورت کے لیے یہ الزام ہے۔ موت مرجانے والی بات ہے (بغیر احتجاج کے )۔ نوٹ: بکر کے قیمتی بیان کے وقت جب کمیٹی زید پر نظر کی تو کمیٹی یہ محسوس کیے بغیر نہ رہی کہ زید بڑے اطمینان سے سن رہا ہے اس کے چہرے پر کسی قسم کے آثار جو شرمندگی سے ہوتے ہیں یا غم وغصہ سے نمودار ہوتے ہیں نہ ہوئے اور نہ زید کی بیوی اس پر احتجاج کی۔ اب التجا ہے علمائے دین سے صحیح فتویٰ صادر فرما کر ہماری رہبری کریں۔سوالات نیچے ہیں: (1) کیا بکر اور روشن کا نکاح باطل نہ ہوا اگر باطل ہو گیا تو دوسالہ بچے کا کیا کیا جائے ؟ آیا یہ بچے کو بکر کے حوالے کر دیں یا روشن کے سپرد۔ (۲) زید اور اس کی بیوی کو شرعی قوانین کے تحت کون سی سزا دی جائے۔ زید اور اس کی بیوی کے لیے اس غیر شرعی زنا کی تہمت سے بری ہونے کے لیے کیا کرنا ہوگا۔ اگر زید اور اس کی بیوی مندرجہ بالا تہمت کی مدافعت نہ کریں تو کمیٹی ان مجرموں کو کون سی شرعی سزا تجویز کر سکتی ہے۔ برائے کرم بحوالہ کتب جواب تحریر فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ فقط المستفتی: عبد الصمد حفيقيه مسجد انوار کالونی بھدراوتی
الجواب: بیانات مذکورہ سے زید کی بیوی پر زنا کی تہمت کرنا ثابت نہیں ہوتا لہذا اس پر کوئی الزام نہیں۔ نہ اس کے شوہر پر کوئی الزام ہے، خاموش رہنا بیانات سننے کے لیے تھا اس امر کی علامت نہیں بن سکتا کہ وہ اپنی بیوی کے اوپر الزام سے راضی ہے پھر دونوں کے بیان میں اس الزام کی تردید کی صریح علامت ہے پھر وہ اس سے راضی نہیں اور جب زنا ثابت نہیں تو حرمت مصاہرت کا حکم نہیں کیا جاسکتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ! فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ لیکن بکر خود اقرار کر رہا ہے کہ میں نے اپنی ساس سے زنا کیا تو بکر کی بیوی اس کے لیے حرام ہوگئی ۔ اب اس پر متارکہ فرض یعنی عورت کہے کہ مجھے تو چھوڑ دے اور شوہر کہے کہ میں نے تجھے چھوڑ دیا ، یا عورت یہ کہے میں تجھ سے جدا ہوئی۔ در مختار میں ہے و بحرمة المصاهرت لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر الابعد المتاركة وانقضاء العدة والوطء بها لا يكون زنا“ الدر المختار، كتاب النكاح فصل في المحرمات، ج ۴، ص ۱۱۴ ، دار الكتب العلميه، بيروت ] لہذا جب تک متارکہ نہ ہو جائے علما فرماتے ہیں کہ اگر شوہر کے دل میں زنا کا صدق واقع ہو تو اس پر واجب ہے کہ عورت کو اپنے اوپر حرام جانے اور متارکہ کر دے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی