لفظ استعفیٰ سے طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید جس کی عمر ۶۰ سال ہے، اس کی بیوی ہندہ جس کی عمر ۵۰ سال ہے،لڑکے بکر سے جھگڑ رہی تھی ، زید نے آکر دونوں کی فہمائش کی لیکن جھگڑا بڑا ہوتا چلا گیا ، اسی جھگڑے کے نتیجے میں زید کی زبان سے یہ الفاظ نکلے میں نے استعفیٰ دیا، میرے خدا نے دیا، میں نے استعفیٰ دیا، میں نے ۔ تیسری بار لفظ ” میں نے ان کی زبان سے نکلا ہی تھا کہ ایک آدمی نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ از روئے شرع زید کی بیوی ہندو پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ مطلع کیا جائے ۔ (نوٹ): زید سے پوچھا گیا کہ لفظ استعفیٰ کے استعمال کے وقت آپ کی نیت استعفیٰ سے طلاق کی تھی یا نہیں؟ تو زید نے حلفیہ کہا کہ طلاق کی نیت نہیں تھی۔ بینوا توجروا نفتی محمد اسماعیل، قصبہ بہیری ضلع بریلی شریف
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر یہ لفظ استعفیٰ دیا اس جگہ کے عرف میں طلاق دینے کے لئے عام طور پر بولا جاتا ہے تو دو طلاق رجعی کا حکم ہوگا۔ زید عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے اور رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو مرد عادل کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ۔ اور اگر یہ لفظ عر فا طلاق میں مستعمل نہیں تو کچھ نہیں ، اگر چہ نیت کی ہو۔ آئندہ احتیاط کرے کہ بے وجہ طلاق دینا شرع نا پسندیدہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله