رخصتی سے پہلے عورت کی طرف سے نامردی کا دعوی مسموع نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ مندرجہ میں کہ: زید کا عقد خالدہ کے ساتھ دوسال قبل ہوا ہے۔ مگر زید پر بعد عقد قبل رخصتی جنون طاری ہوا اور ضرورت سے زیادہ پاگل ہو گیا۔ اسی دوران ڈاکٹروں نے اس کی وجہ جنون جاننے کی جدوجہد کی اور علاج و معالجہ بھی ہوتارہا اور بعض ڈاکٹروں نے دماغی گرمی کی وجہ بتاتے ہوئے مزید بتایا کہ یہ عنین (نامرد) ہے۔ زید کا عضو تناسل چھوٹا ہونا ان کے بچپنے سے مشہور تھا مگر قبل عقد ایک غیر متشرع ،ماسٹر اور ایک مولوی صاحب نے بتایا کہ نہیں میری ان سے سالوں سے قربت ہے صبح نہاتے دیکھا اور حلفیہ کہتا ہوں کہ یہ نامرد نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ خالدہ کے والدین رخصتی دینا نہیں چاہتے ہیں بلکہ از روئے شرع مطہر چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تو عرض یہ ہے کہ خلع کی کوئی صورت ہے یا عدم صورت خلع میں اس سے جبر أطلاق لی جائے؟ یا ایک سال تک اسے لڑکے کے حوالہ کیا جائے مگر اس پرلڑکی کے والدین راضی نہیں ،نگ و عار تصور کرتے ہیں اور لڑکا بضد ہے کہ ہم اپنی بے عزتی مول نہیں لیں گے اس سے شادی ضرور کریں گے طلاق ہرگز نہ دیں گے۔ لہذا تفصیلی صورت فقہیہ ومسئلہ حنفیہ سے متنبہ کیا جائے جس میں حضرت از ہری میاں قبلہ جانشین حضور تاجدار اہل سنت رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ کی مہر بھی ثبت ہو۔ المستفتی: ناظر اشرف رضوی صدر و شیخ الحدیث مدرسہ سبحانیہ الہ آباد-۳
الجواب: سیاق سوال سے یہ ظاہر کہ وہ لڑکا مجنون نہیں ہے اور جبکہ ہنوز رخصتی نہ ہوئی تو دعوی نامردی بھی نا مسموع ہے بلکہ لڑکے کا شادی پہ اصرار اس کے خلاف پر دال ہے۔ لہذا اس دعویٰ کی بنا پر نہ ایک سال کی مہلت دی جائے گی نہ بلا طلاق تفریق کی جائے گی اور اس صورت میں جبر أطلاق لیناروا نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۷ رذی قعدہ ۱۴۰۲ھ