شوہر کے طلاق سے انکار اور گواہوں کے بیانات کے باوجود طلاق کا ثبوت اور شرعی حکم
زید نے اپنی عورت کو مارا اور کہا جاؤ بھاگ جاؤ یہاں سے، اپنے میکے میں رہو یا کہیں اور چلی جاؤ۔ عورت نے اپنے میکے آکر اپنے دو بھائیوں سے کہا مجھے میرے شوہر نے طلاق دے دی ہے۔ بھائیوں نے کہا ٹھیک ہے رہو، جو ہم کھائیں تم بھی کھانا پینا۔ بھائیوں سے پوچھا گیا کہ تمہاری بہن نے تم سے بتایا کہ طلاق دے دی ہے تو بھائیوں نے کہا کہ ہاں ہم سے آکر بتایا کہ مجھے طلاق دے دی ہے۔ بھائیوں کے علاوہ گاؤں کے برادری غیر برادری کے لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ کسی سے عورت نے بتایا کہ طلاق دے دی۔ کسی سے مرد نے بھی بتایا کہ ہاں، ایسا ہو گیا ہے۔ آج ایک عالم کے سامنے شوہر بھی قطعی طور پر انکار کر رہا ہے اور بیوی بھی انکار کر رہی ہے ۔ میاں کہتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی ، بیوی کہہ رہی ہے کہ مجھے طلاق نہیں دی ہے۔ ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ شریعت مطہرہ کے نزدیک کیا حکم ہے؟ مفصل جواب عنایت فرمایا جائے ۔ اور عبدالرحمن صاحب جو غیر برادری کے آدمی ہیں انہوں نے گاؤں کے کچھ لوگوں کے سامنے ایک پر چہ بھی دکھایا جس میں طلاقیں لکھی ہوئی تھیں اور خود عبد الرحمن صاحب نے یہ بھی بتایا کہ صاحب میں ان کے دروازے بیٹھا ہوا تھا آپس میں میاں بیوی میں کچھ تو تو میں میں ہو رہی تھی ، کہا میں چھوڑ دوں گا۔ میں نے کہا ( عبد الرحمن ) بھائی چھوڑ چھاڑ کی بات مت کرو یہاں تک کہ آگے بات بڑھی اور میرے سامنے کہا میں نے تم کو ( یعنی بیوی طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی۔ ایک عالم صاحب نے جب تحقیق کی تو معلوم یہ ہوا کہ ایک ماسٹر صاحب کی دکان پر عورت کا شوہر آیا اور کہا کہ میں کس طرح پاک ہوسکتا ہوں تو ماسٹر صاحب اور ایک مولوی صاحب نے کہا کہ جاؤ حلالہ کروالواور عدت گزار کر پھر نکاح کر لو بات ختم ہو گئی یہاں تک ثبوت ہے۔ المستفتی: محمد اور لیس ،دولت پور، پرتاپ گڑھ (یوپی)
الجواب: طلاق کا ثبوت دو عادل مردوں یا ایک مرد دو عورتیں عدول کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں شوہر جبکہ منکر ہے اور نصاب شہادت موجود نہیں اور بیانات مختلف ہیں ،طلاق ثابت نہ ہوگی۔ لیکن اگر زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو واقع ہوگئی ، اس کے یا کسی کے جھوٹ بولنے سے مٹ نہ جائے گی اور عورت جو حرام ہو چکی ہے وہ حلال نہ ہوگی۔ جھوٹ بولنے کا وبال علیحدہ ہوگا۔ یہ حکم تین طلاقیں دینے کا ہے اور تین سے کم دی ہے تو عدت میں رجعت کرے یا بعد عدت دوبارہ نکاح کرلے اور سوال کا پہلا جملہ جاؤ ، بھاگ جاؤ ، اپنے میکہ میں رہو کنایات طلاق سے ہے، یعنی اگر بہ نیت طلاق کہا ہے تو اس سے ایک بائن طلاق واقع ہوگی۔ اور عورت کو دوبارہ نکاح کر کے رکھ سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله