شوہر کے مرتد ہونے کی صورت میں نکاح کے فسخ ہونے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید اپنی منکوحہ کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے، منع کے باوجود اگر وہ نماز پڑھتی ہے تو لات مارکر گرا دیتا ہے اور مصلیٰ اُٹھا کر لے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ہم پر جادو کرتی ہے اگر وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہے تو بھی منع کرتا ہے اور مار پیٹ کرتا ہے ایک مرتبہ تو قرآن پاک چھین کر غیر مسلم کو بلایا کہ تم اس کو لے جاؤ ہمارے گھر میں قرآن پاک نہ رہنا چاہئے“۔ زید کی منکوحہ نے منت و سماجت کر کے قرآن واپس حاصل کیا خود زید مذکور کا عالم یہ ہے کہ شراب پیتا ہے احکام اسلام سے قطعا تعلق نہیں رکھتا ہے۔ زید کی منکوحہ عرصہ تین سال سے میکے میں بیٹھی ہے جب منکوحہ مذکورہ دار القضاء میر تا سٹی میں اپنے والد بدرالدین شاہ کے ہمراہ حاضر ہوئی اور اپنا حلفیہ بیان حاجی غلام محمد انگریز اور اپنے والد اور قاضی صاحب کو دیا تو سابق قاضی شہر جناب قاضی خورشید احمد صاحب عثمانی نے مذکور حلفیہ بیان قلمبند فرما کر بصورت استفتاء حضرات علماء کی خدمت میں مسئلہ شرعی بیان فرمانے کی غرض سے دارالقضاء کی معرفت روانہ کرنا مناسب سمجھا لہذا حضرات علمائے دین سے استدعا ہے کہ مذکورہ حالات اور زید مذکور کی بیوی کے حلفیہ بیان ( کی کاپی جو ساتھ میں ارسال کی جارہی ہے ) کو ملاحظہ فرما کر جواب باصواب سے مطلع فرما کر عنداللہ ماجور ہوں !
الجواب: المستفتی: غلام محمد دارالقضاۃ میرتاسٹی، ناگور شریف (راجستھان) جس نے خط کشیدہ جملہ بول کر عیاذ باللہ نماز کو جادو بتایا اور قرآن کریم کو غیر مسلم کو دے کر اس کی اہانت کا مرتکب ہوا وہ مرتد بے دین ہو گیا ، اس کا نکاح اس عورت سے ختم ہو گیا (1) ارتداد احدهما فسخ عاجل ) الدر المختار، کتاب النکاح، باب نکاح الکافر، ج ۴، ص ۳۶۶، دار الكتب العلمية، بيروت کذافی تنویر الابصار۔ اس پر لازم ہے کہ تو بہ وتجدید ایمان کرے پھر اگر اسی عورت کے ساتھ رہنا چاہے تو اس کی رضا سے تجدید نکاح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ ذی قعدہ ۱۴۱۰ھ اور نماز پڑھتے میں لات مارنا کراہت نماز پر دلیل ہے اور یہ کہنا کہ ہمارے یہاں قرآن نہ رہنا چاہئے ، بغض قرآن کی علامت ہے اور یہ باتیں کفر ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی