بھاگ بھاگ ہٹ جا سامنے سے کہنے اور بیوی پر تہمت کے الفاظ کا حکم
بھاگ بھاگ ہٹ جا سامنے سے“ کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے کیا ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے ذوی الاحترام مسئلہ ذیل میں کہ: (1) زید نے اپنی بیوی کے بارے میں ایک دوسرے شخص سے کہا تھا کہ میں چھوڑ دوں گا یا چھوڑ دینگے۔ اس طرح کے الفاظ کہے۔ اس کے دس روز بعد زید کی بیوی نے ایک ایسی غلطی کر ڈالی جس کی وجہ سے زید کو کافی غصہ آگیا اور بیوی کو کہا کہ بھاگ بھاگ۔ ہٹ جا سامنے سے مگر طلاق کی نیت سے نہیں کہا ہے۔ لہذازید پر حکم شرعی فرما ئیں ۔ (۲) زید نے اپنی بیوی کو تمسخر کے طور پر کئی مرتبہ کہا ہے اور ایک مرتبہ غصہ میں بھی کہا کہ تم میکے میں کسی سے دوستی کئے تھی، کسی سے محبت کئے تھی اور کس سے کروایا ہے۔ زید تہمت لگانے کی نیت سے نہیں کہا ہے محض معلوم کرنا مقصد تھا۔ مگر جب لعان کا مسئلہ پڑھا تو اسی وقت سے فکر ہو گئی کہ عورت زوجیت سے تو نہیں نکل گئی۔ اس لئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔ (۳) زید کی شادی ہوئی مگر کسی سبب سے دوبارہ نکاح ہوا۔ مگر کئی ماہ بعد زید کے والد نے بغیر کسی ثبوت
لمستفنى : يار محمد قادری مدرسہ صدرالعلوم ، بڑگاؤں، گونڈہ (1) صورت مسئولہ میں طلاق نہیں ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زوجیت سے نہ نکلی کہ ہنوز لعان شرعی نہ ہوا مگر زید کو بیوی سے ایسا کہنا جائز نہ تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نکاح صحیح ہوا جبکہ بہ طریق شرعی ہوا اور جب نکاح فسخ ہو جائے تب تو بیوی سے نکاح اس کی رضا سے مہر جدید کے ساتھ کر سکتا ہے۔ اس میں کسی وقت مخصوص کی قید نہیں ۔ ہاں مغلظہ بائنہ سے بے حلالہ نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی