غصہ میں دی گئی تین طلاقوں کا وقوع اور حلالہ کا حکم
زید نہایت غریب اور حق پرست ہے اور زید کی بیوی ہندہ غیر حق پرست اور اسراف (بے جا خرچ ) میں مبتلا رہتی ہے۔ زید غریب ہونے کے باوجود بھی ہندہ کی حسب حیثیت فرمائش پوری کرتا رہا۔ زید نے کاروبار کے لئے ہندہ سے کچھ روپیہ چھپا کر رکھ دیا تھا۔ ہندہ نے موقع پا کر کسی صورت سے وہ روپیہ نکال لیا۔ ضرورت پیش آنے پر زید نے روپیہ نکالنے پر قدم اُٹھایا اور روپیہ نہ ملا۔ زید کے پاس اور روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے زید کو بہت رنج اور تر در ہوا اور ہندہ سے روپیہ کے بارے میں بہت پوچھا لیکن ہندہ نے برابر انکار ہی کیا۔ زید کے یہاں علاوہ ہندہ کے اور کوئی نہیں۔ زید کو بہت غصہ آیا، ہندہ کو مارا اور تین طلاق دیدی ۔ لیکن ہندہ کے میکے کا کوئی آدمی نہیں تھا، بستی کے چند لوگ تھے۔ ہندہ برابر کہتی رہی کہ میں طلاق نہیں چاہتی اور نہ فارغ خطی چاہتی ہوں۔ ایسی حالت میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ جواب پشت پر تحریر فرمائیے! المستفتی: بشیراحمد، باشنده میر تمنح قصبہ میں منبج
الجواب: سائل نے بیان کیا کہ زید نے ہندہ کو تین طلاقیں دے دیں اگر یہ واقعہ ہے تو ہندہ پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور ہندہ زید پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ اس سے جماع کرے، پھر جب وہ طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت بعد عدت پہلے شوہر سے نکاح کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله