طلاق کے ثبوت کے لیے مطلوبہ شرعی گواہوں کی تعداد اور حیثیت کا بیان
کیا محض عورت کے بیان سے طلاق کا ثبوت ہو سکتا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : میری بیوی سے کافی دن پہلے جھگڑا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر چلی گئی تھیں، اس کے کئی روز بعد میں اس کے گھر گیا تھا۔ میں نے کہا تھا میری بیوی کو بھیج دو۔ اس پر اُن کے ماں و باپ نے نہیں بھیجا۔ میں بہت ہی پریشان ہو گیا تھا، میں نے دو بار طلاق دے دی۔ جس وقت میں نے دو بار طلاق دی تھی اس وقت گھر میں میری ساس اور میری چھوٹی سالی اور بیوی گھر میں موجود تھی اور گھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا۔ لہذا مسئلے کا جواب عنایت فرما یا جاوے۔ عین نوازش ہوگی ! مشتری بیگم (ساس) کا بیان یہ ہے کہ میرے سامنے تین بار طلاق دی ہے۔ چھوٹی سالی نجمہ بیگم کا بیان یہ ہے کہ تین بار میرے سامنے طلاق دی ہے۔ میری بیوی شمس النساء کا بیان یہ ہے کہ دو بار طلاق دی ہے۔ لہذا اس مسئلے کا جواب عنایت فرما یا جائے ۔ عین نوازش ہوگی! المستفتی : عصمت خاں ولد پیارے خاں ساکن محله خدا گنج، پیلی بھیت (یوپی)
الجواب: طلاق کا ثبوت شوہر کے اقرار یا دو مرد عادل یا ایک مرد و دو عورت عدول کی شہادت سے ہوتا ہے۔ صورت مسئولہ میں شوہر جبکہ تین طلاقوں کا منکر ہے تو محض عورت کے بیان سے تین طلاقیں ثابت نہ ہوں گی ۔ واقعہ اگر یہی ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی کو دومرتبہ لفظ صریح سے طلاق دی تو بیوی پر دور جعی طلاقیں واقع ہو گئیں ۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دومرد عادل کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ یہ حکم جب ہے جبکہ ایک بار پہلے طلاق نہ دی ہو ورنہ تین ہو کر بیوی ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔حکم خدا اور رسول کا ہے۔ مفتی کا کام اسے ظاہر کرنا ہے۔ جھوٹ بولنے سے حکم الہی نہ بدلے گا بلکہ جھوٹ کے ساتھ زنا کا و بال سر پر رہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ رشوال المکرم ۱۳۹۹ھ