عورت کو اگر یقین ہے کہ شوہر نے طلاق ثلاثہ دی ہے تو کیا کرے؟
محترم المقام مفتی اعظم ہند قبلہ سجادہ خانقاہ رضویہ۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : ہندہ اپنے شوہر زید کے پاس کچھ روز رہی اس کے بعد زید کچھ کہے بغیر چپکے سے بھاگ گیا۔ پھر چھ مہینہ بعد آیا اورلڑکی کو رخصتی کرا کر اپنے گھر لے گیا۔ ہفتہ دو ہفتہ ٹھیک سے رہا۔ اس کے بعد ہندہ کو ہر طرح سے تکلیف دینے لگا۔ آخر کار ایک دن کسی بات پر ہندہ کو بولا کہ تم کو تین طلاق دی۔ جب بستی والوں کو معلوم ہوا تو بستی والوں نے زید سے مہر دین طلب کیا اس پر زید مہر دین دینے سے انکار کیا اور چلا گیا پھر تین دن بعد بستی والوں نے ہندہ کا عقد اسی زید سے کرا دیا۔ رات میں جب زید آیا تو ہندہ سے بولا کہ تم سے بات کرنا حرام ہے تم ہم سے بات نہیں کرو ۔ اس کے بعد لڑ کا باہر دوسری جگہ چلا گیا۔ کئی روز بعد بستی کا ایک قصائی ہندہ سے آکر بولا کہ زید نے ہم سے ہیں روپیہ لیا ہے اور تم کو بیچ دیا ہے۔ اب تم ہمارے گھر چلو ۔ جب قصائی ہندہ کو زیادہ پریشان کرنے لگا تو ہندہ واپس براٹ نگر چلی آئی کچھ روز گزر
الجواب:فی الواقع جبکہ اسنے تین طلاق دے دی ہیں تو بیوی کے مطلقہ ہونے میں شک نہیں اور شوہر نے اگر گواہان عادل کے سامنے یا جماعت کثیرہ کے سامنے تین طلاق کا اقرار کیا تو طلاق ثابت بھی ہے اور اگر وہ منکر ہے تو ثبوت طلاق بے گواہان شرعی کے نہ ہو گا مگر عورت جبکہ مدعیہ ہے کہ شوہر نے تین طلاق دی ہے تو اُسے حلال نہیں کہ اسے اپنے اوپر قابو دے۔واللہ تعالیٰ اعلم