صریح سے طلاق واقع ہونانیت پر موقوف نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے اس طرح سے طلاق دی ہے کہ جھگڑا ہور ہا تھا، زید نے کہا: "طلاق ، طلاق ، طلاق“ زید سے معلوم کیا گیا کہ تمہاری نیت تین طلاق کی تھی کہ نہیں؟ زید نے کہا: صرف طلاق ، طلاق، طلاق کہا ہے ! دوسری عرض یہ ہے کہ زید تقریباً تین سال سے دماغی بیماری میں مبتلا ہے ، علاج جاری ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بہت کم ہے۔ اس کا پتہ اس امر سے بھی چلا ہے کہ زید طلاق ، طلاق ، طلاق کہنے کے بعد یہ کہتا گیا کہ اگر ہندہ چاہے تو میں معاف کر دوں گا۔ کیا اس صورت طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ اگر ہوئی تو کون سی طلاق ؟ براہ کرم جواب سے نوازیں۔ فقط ! جیلانی برکت اللہ
الجواب: بیان مندرجہ سوال سے ظاہر ہے کہ زید کے ہوش و حواس طلاق دیتے وقت درست تھے اور طلاق دے کر اسے طلاق دینا بھی یاد ہے ورنہ یہ نہ کہتا کہ میری نیت طلاق کی نہ تھی اور طلاق لفظ صریح ہے اور صریح سے طلاق واقع ہو نا نیت پر موقوف نہیں تو اس کا یہ عذر کچھ سودمند نہیں ۔ لہذا تین طلاقیں واقع ہو کر بیوی اس کے نکاح سے فوراً باہر اور اس کے لئے ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی اور اس کا یہ کہنا اگر ہندہ چاہے، یہ اس کے بدحواس ہونے کی دلیل نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ رصفر المظفر ۱۴۰۲ھ