طلاق سے رجوع کرنے کا مسنون طریقہ!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی بیوی سے گھریلو معاملات میں جھگڑا ہو رہا تھا۔ تو زید کی بیوی بد کلامی اور زبان درازی سے پیش آئی اس کے بعد محلے والوں نے بات رفع دفع کرادی۔ اس کے بعد زید کا لڑ کا کام پر سے آیا اس نے زید کی بیوی سے جھگڑے کے سبب بیانات کئے ۔ اس پر لڑکے نے زید کی بیوی یعنی اپنی والدہ سے زبان درازی کی کچھ اس طریقے سے گفتگو کی کہ زید کے منہ سے اچانک طلاق کی بات دو دفعہ نکل گئی ۔ اور اس وقت موجودگی میں صرف ایک عورت کھڑی تھی، طلاق دینے کا کوئی مخیال نہیں تھا۔ ہم دونوں نہایت زیادہ پریشان ہیں اور رضامند ہونا چاہتے ہیں۔ اب جو قرآن وحدیث کا حکم ہو، وہی صادر فرمائیں۔ آپ کی عین نوازش ہوگی ! المستفتی: عبد الواحد محلہ کنکوئیاں، بریلی تاریخ ۵ جنوری ۱۹۷۷ء
الجواب: بر تقدیر صدق سوال جبکہ دو دفعہ طلاق طلاق کہا جب کہ بیان سائل سے معلوم ہوا تو دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئیں۔ عدت کے اندر بیوی سے رجعت کر سکتا ہے اور رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ شوہر دومرد یا ایک مرد و دو عورت نمازی پرہیز گار کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ