طلاق نامہ پر انگوٹھا لگانے اور کلکٹر کی اجازت سے دوسرے نکاح کا حکم
اور لڑکی کے والدین نے طلاق نامہ کا کاغذ تحریر کرا کر اس لڑکے سے کہا کہ اس کاغذ پر انگوٹھا لگاؤ۔ لہذا لڑکے نے ایک مرتبہ یہ کہہ کر کہ مجھے کیا ، طلاق کا انگوٹھا لگا دیا، اس کے بعد دوسری مرتبہ زبان سے کچھ نہ کہا۔ ایسی حالت میں طلاق ہو گئی یا نہیں؟ (۲) ایک صاحب نے کلکٹر صاحب کو درخواست دی کہ میری لڑکی کو اس کا شوہر نہیں بلاتا ہے لہذا مجھ کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت مل جائے تاکہ میں دوسری جگہ نکاح کر دوں تو کلکٹر صاحب کے یہاں سے اجازت مل گئی ، اور اسی کو طلاق سمجھ کر دوسری جگہ نکاح کر دیا۔ اس نکاح کا پڑھانے والا اور گواہ ووکیل اور اس نکاح میں شریک ہونے والے کس گناہ کے مجرم ہوں گے؟ مع تفصیل کے بیان فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط ! المستفتی: عبدالعلیم خاں، موضع رسیاں خانپور ضلع پیلی بھیت
الجواب: (1) طلاق ہو گئی جبکہ انگوٹھا برضا و خوشی ہے جبر وا کراہ شرعی لگایا ہو، اور اگر اکراہ شرعی کی صورت تھی مثلاً بہت سخت مارنے یا تکلیف عضو یا قتل نفس کی دھمکی دی تو طلاق کا حکم نہیں ، جو صورت واقعی ہو ، اس پر عمل کیا جائے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) طلاق کا حق شوہر کو ہے۔ قال تعالى : {بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاح } حدیث میں ہے: "الطلاق لمن اخذ بالساق (۲) لہذا غیر کی منکوحہ سے بے طلاق وانقضائے عدت نکاح حرام ہے۔ قال تعالى: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء - الآية } (1) سورة البقرة: ۲۳۷ (۲) کنز العمال في سنن الاقوال والافعال ، ج ۹، باب کتاب الطلاق حدیث نمبر ۲۷۷۷۶، مطبع دارال العلمية بيروت / سنن ابن ماجه، کتاب الطلاق، باب طلاق العبد (۳) سورة النساء: ۲۴ عورت نے اگر بے طلاق غیر سے نکاح کیا تو سخت گناہ گارسخت بدکار ہوئی پھر اگر ناک کو معلوم تھا کہ یہ غیر کی منکوحہ ہے تو نکاح باطل محض ہے اور قربت خالص زنا قرار پائے گی اور اگر اسے معلوم نہ تھا تو فاسد ہوا اور بعد علم متارکہ فرض ہے اور تاخیر سے تو بہ لا زم اور گواہان و قاضی و شرکا و واقفان حال پر بھی تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۶ ذی قعدہ ۱۳۹۶ھ