کیا طلاق کا وعدہ کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : رات کے گیارہ بجے کے قریب ایک صاحب نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ میرا جی بہت پریشان ہو گیا ہے، روز روز کی لڑائی اچھی نہیں ہوتی ، جب دیکھو طلاق ہی کا مسئلہ سامنے آتا ہے کل کے دن جب سب اکٹھے ہوں گے تو میں کہہ دوں گا کہ جاز بیدہ میں نے تجھ کو طلاق دی، اسی طرح سے اس نے دو الفاظ ادا کئے پھر صبح کو اس نے دو چار آدمیوں سے بھی کہا کہ لڑکے کا یہ کہنا ہے کہ اس وقت ہم کو غصہ بہت زیادہ تھا۔ لڑکی کا بیان ہے کہ میرے شوہر نے رات کو گیارہ بارہ بجے کے قریب طلاق کے الفاظ ادا کئے، وہ یہ ہیں کہ : جاز بیدہ میں نے تجھ کو طلاق دی، اسی طرح سے تین الفاظ ادا کئے اور اس سے بھی زیادہ کہتے رہے، کہتے وقت میں نے روکا کہ اس وقت چپ رہئے ، صبح کو کہہ دیجئے گا مگر انہوں نے کہا کہ پھر صبح کو جب سب اکھٹے ہوں گے تو بھی یہی بات کہہ دوں گا پھر صبح کو دو چار آدمیوں سے بھی کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا ہے۔ ایسی صورت میں اب کیا کیا جاوے؟ اطلاع کریں۔ عین کرم ہوگا !
الجواب: شوہر کے الفاظ سے، جو مذکور سوال ہوئے ، طلاق واقع ہونے کا حکم نہیں کہ اس میں ایقاع طلاق فی الحال نہیں بلکہ طلاق کا وعدہ ہے البتہ بیوی کے بیان میں جو فقرہ وارد ہوا ، وہ ضرور ایقاع طلاق کے لئے ہے فی الواقع اگر شوہر نے یوں کہا کہ : ” جا میں نے تجھ کو طلاق دی“ تو تین طلاق ہو گئیں اور عورت شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ اب بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کرے پھر وہ جماع کے بعد طلاق دے دے تو عورت بعد عدت پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالى : (حَلَى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) ،، وقال النبي سل : " لا حتى تذوقی عسیلته ويذوق عسیلتک عورت پر لازم ہے کہ ہر گز مرد کو اپنے اوپر قابو نہ دے اور اس سے ایسے بھاگے جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے ۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ تین طلاقوں کے دعوئی میں سچی ہو ، ورنہ اسی پر جھوٹ کا وبال ہے، وہی ملزمہ ہے۔ یہ تین طلاقوں کا نفس حکم تھا مگر جبکہ شوہر منکر ہے تو ثبوت طلاق کے لئے دو مرد عادل یا ایک مرد، دو عورتیں عدول کی گواہی ضروری ہے۔ لہذا اگر اس کا اقرار طلاق شرعی طور پر ثابت ہے تو طلاق ثابت ہوگئی ، جیسی اور جتنی طلاقوں کا اقرار کیا ہو ویسی اور اتنی طلاقیں ثابت ہونے کا حکم ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی