نکاح اصل نام سے اور طلاق عرفی نام سے دینے کا حکم اور اس کی شرعی حیثیت
اگر نکاح زید کے نام سے ہوا اور طلاق نامہ پر بکر لکھا تو کیا طلاق ہو جائے گی؟ کیا فرماتے ہیں صاحب شرع اس مسئلہ میں کہ: الہی بخش عرف منے نے حسب ذیل طلاق نامہ لکھ کر اپنی بیوی آمنہ کو دیا بعد ازاں اب وہ کہتا ہے کہ میں نے صرف منے کہہ کر طلاق دی تھی ، میرا اصلی نام تو الہی بخش ہے کیونکہ الہی بخش ہی نام پر میرا عقد ہوا تھا، اس طرح وہ اپنے طلاقنا مے کو غلط قرار دیتا ہے، کیا منے کا قول صحیح ہے؟
الجواب: اگر یہ صورت واقعہ ہے کہ مئے مذکور نے طلاق نامہ مذکورلکھا تو اس کی بیوی پر اس کی رو سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور عورت اس پر اب ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت پھر عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالى: (فَلا تَحِلُ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ) وقال النبی سا ل : " لا حتى تذوقى عسيلته ویذوق عسیلتک وہ عذر منے کا بیکار ہے، جب اس نے بہ رضا و خوشی ہے جبر وا کراہ طلاق لکھدی، واقع ہو گئی۔ وہ اگر اصلاً نام نہ لکھتا تو بھی واقع ہو جاتی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله