ایک بار لفظ طلاق کہہ کر ایک دو تین کی گنتی گننے سے واقع ہونے والی طلاقوں کا حکم
ایک طلاق دینے کے بعد ایک دو تین گفتی شمار کرنے سے کتنی طلاق ہوگی ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل میں کہ: میری اچانک طبیعت خراب ہو گئی اور میرے منہ سے خون جاری ہو گیا اور قریب تین کلوخون نکل گیا، مجھے یہ شک ہوا کہ مجھے میری بیوی نے یا کسی رشتے دار نے کچھ دے دیا یا کوئی جادو، ٹوٹکا کرا دیا ہے، اس شک پہ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی، ایک بار کہہ دیا، ۲-۱- ۳ر کی گنتی گن دی میں بیہوش ہو گیا، میرے رشتے دار مجھے اسپتال لے گئے ، مجھے جب ہوش آیا تو میرے رشتے داروں نے بتایا کہ تو نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ایک بار لفظ طلاق کہنے سے اور گنتی گن دینے پر طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی ؟ اور اگر ہوئی تو کیا اس کا دوبارہ نکاح کیا جائے ؟ فقط !
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ شوہر پہلے یہ کہہ چکا کہ میں نے تجھے طلاق دی، تو بعد میں یہ کہا کہ ایک دو تین طلاق کے لئے بوجہ مذاکرہ طلاق متعین ہو گیا اور اب تین طلاقوں کا حکم ہو کر عورت شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت سے بعد عدت کوئی اور شخص نکاح صحیح کر کے جماع کرے، پھر طلاق دے دیا جائے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے ۔ تو عورت عدت بیٹھ کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالى : {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} () وقال النبی سالم : " لا حتى تذوقى عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله