معلق طلاق کی شرط پوری ہونے پر تین طلاق کے وقوع اور حلالہ کا حکم
زبیدہ اپنے مکان پر لے گئی۔ کیا اس حالت میں تین طلاق واقع ہوگئی ؟ محمود کا کہنا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی۔ حامد کا کہنا ہے کہ تین طلاق واقع ہو گئی۔ مہربانی فرما کر قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل و مفصل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ فقط والسلام!
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر فی الواقع زید کی بیوی بکر کے مکان پر گئی تو بیوی پر تین طلاقیں بے شک وشبہ واقع ہو گئیں اور عورت اپنے شوہر پر ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کر کے جماع کرائے ، وہ بعد جماع طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت پھر عدت کے بعد پہلے سے نکاح کر سکے گی۔ قال تعالى: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} () وقال النبي صلال : " لا حتى تذوقى عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) جس نے کہا کہ طلاق نہ ہوئی، اس نے غلط کہا، اس پر تو بہ لازم ہے، غلط مسئلہ بتانا حرام لعنت انجام ہے۔ حدیث میں ہے: ” من افتی بغیر علم لعنته ملئكة السماء والارض (۳) جو بے علم کے فتوی دے، اس پر آسمان وزمین کے فرشتے لعنت کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ (۱) سورة البقرة : ٢٣٠ (۲) جامع الترمذی، ابواب النکاح، ج ۱، ص ۱۳۳ ، مجلس برکات (۳) کنز العمال، ج ۱۰، ص ۱۹۳ ، حدیث نمبر ۲۹۰۱۸ ، ابن عساکر عن على، موسسة الرساله، بيروت