اکراہ شرعی کی صورت میں کب طلاق کا حکم ہوگا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ پر کہ: ایک شخص اپنی بیوی کو سسرال لینے گیا ، سسرال والوں کے دباؤ سے دونوں کے نہ چاہتے ہوئے جبر غیر مسلم کے ہاتھ کے لکھے ہوئے طلاق نامہ پر دباؤ دے کر دستخط کرالئے گئے ہیں جبکہ دونوں پڑھے لکھے ہیں دستخط کے بعد دونوں ایک دم بے قرار ہو کر روئے اب دونوں پھر سے ملنا چاہتے ہیں یعنی بیوی پھر سے اپنے شوہر کے پاس آنا چاہتی ہے اور شوہر بھی چاہتا ہے۔ لہذا ایسی صورت میں کس طرح یہ اپنے شوہر کے پاس جاسکتی ہے؟ اور اس کی کیا صورت ہے؟ مہربانی کر کے جواب جلد سے جلد عنایت فرمائیں! المستفتی: محمد صدیق عثمان ، ساکن قصبہ پر چی ضلع جھانسی
الجواب: اگر دباؤ تا به حدا کراہ شرعی پہنچ گیا تھا مثلا شوہر کو جان سے مارنا یا اس کا کوئی عضو کاٹنے یا اسے سخت مار دینے یا قید میں رکھنے کی دھمکی دی گئی اور شوہر کو گمان غالب ہوا کہ اگر کہنا نہ کروں گا تو وعید (دھمکی) واقع ہو جائے گی تو طلاق نہ ہوئی اور اگر دباؤ اکراہ شرعی کی حد تک نہ تھا تو طلاقنامہ میں جیسی اور جتنی طلاقیں درج تھیں، واقع ہو گئیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی