عدالتی طلاق، تین طلاق کے بعد حرمت مغلظہ، حلالہ اور مہر و جہیز کی واپسی کا حکم
تک مشتاقن نے راہ دیکھی بعد کو ا ار دسمبر ۱۹۷۴ء کومشتاقن نے کچہری سے آزادی لے لی یعنی کچہری سے طلاق لے لی اپنے میکے میں ہے اب سجاد خاں نے قانونی کارروائی کر دی ہے اور مشتاقن اور والد والدہ کے خلاف نوٹس دی ایسی حالت میں کیا مشتاقن کو سجاد خاں زوجیت میں رکھ سکتا ہے؟ اس کے لئے جائز ہوگا طلاق ہونے کے بعد مشتاقن اپنا جہیزی سامان بھینس زیور وغیرہ واپس لے سکتی ہے؟ اور مہر کی بھی حقدار ہے یا نہیں؟ درمیان میں سجادخاں نے مشتاقن کا زیور جہیزی سامان بھینس وغیرہ سب واپس کرنے کا وعدہ کیا مگر اب بدل گیا، مقدمہ چلانے کا خیال ہے۔ اس معاملہ میں شرعی حکم فرمائیں! نوٹ : اپیل ہے کہ اس مسئلہ کو رسالہ اعلیٰ حضرت دسمبر میں شائع فرما ئیں تاکہ کچری میں کام دے سکے ۔ جواب سے اطلاع فرمائیں!
الجواب: المستفتی: فقیر محد گر دوز کھیری لیل گنج ضلع کھیری بر تقدیر صدق سوال شوہر نے جبکہ عورت کو تین طلاقیں دے دیں ،عورت پر تین طلاقیں واقع ہو کر شوہر پر ایسی حرام ہوگئی کہ اس کے لئے بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت کسی سے نکاح صحیح کرے، بعد نکاح وہ وطی کرے پھر وہ طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کر سکتی ہے۔ قال تعالیٰ : (حتی تنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک اور مہر و جہیز عورت کو واپس کرنا ضروری ہے۔ (1) سورة البقرة: ٢٣٠ (۲) جامع الترمذی، ابواب النکاح، ج ۱، ص ۱۳۳ ، مجلس برکات ردالمحتار میں ہے: ”کل احد يعلم ان الجهاز ملک المرأة وانه اذا طلقها تاخذه كله (1) لر یہ بات نا قابل فہم ہے کہ جب شوہر نے زبانی طلاق دے دی تھی تو کچہری سے طلاق لینے کی کیا ضرورت تھی؟ شرعاً طلاق کا حق شوہر کو ہے۔ حدیث میں ہے: ” انما الطلاق لمن أخذ بالساق (۲) اگر شوہر نے طلاق نہ دی ہو تو عورت کو دوسرے سے نکاح حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صحت الاجابة واللہ تعالیٰ اعلم بالاصابة قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۴ رذی الحجہ ۱۳۹۶ھ (1) رد المحتار، کتاب الطلاق، باب النفقة ، ج ۵، ص ۲۹۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) كنز العمال في سنن الاقوال والافعال ، ج ۹، باب کتاب الطلاق حدیث نمبر ۲۷۷۷۶ مطبع دار الكتب العلمية بيروت / سنن ابن ماجه ابواب الطلاق باب طلاق العبد ، ص ۱۵۱ ، فیصل پبلیکیشنز