ایک ساتھ دی گئی تین طلاقوں کے وقوع اور غیر مقلدین کے مسلک کی تردید کا بیان
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں زید کی منکوحہ پر کتنی طلاق واقع ہوں گی؟ طلاق مغلظہ یا رجعی؟ کیا اس صورت حال پر طلاق ثلثہ اور واحدہ کے وقوع پر ائمہ کرام کا اختلاف بھی ہے؟ کیا بوقت ضرورت شدیدہ حنفی کسی دوسرے امام فقہ کے مسلک پر عمل کر سکتا ہے؟ اب زید اپنی اس حرکت پر شرمندہ بھی ہے اور اپنی منکوحہ کو پھر اپنے پاس لے آنے کا خواہشمند ہے۔ براہ کرم تفصیلی اور مدلل جواب سے جلد از جلد آگاہ فرمائیں کہ اس کی صورت کیا ہوگی ؟
چاروں مذاہب پر تین طلاق واقع ہو گئیں اور زید پر اس کی بیوی ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ زرقانی علی الموطا میں ہے: روی انه صلی الله تعالى عليه وسلم الزم البتة بمن طلق بها الزم الثلاث من طلق بها (1) اور یکبارگی تین طلاقوں کو ایک بتانا غیر مقلدین کا مسلک ہے جس میں ان کا کوئی سلف بجز ابن تیمیہ نہیں جو کہ علماء کرام کے ارشاد کے بموجب ضال مضل ہے، جیسا کہ صاوی علی الجلالین میں اس تین طلاق کی بحث میں فرمایا : لم يعرف الا لابن تيمية من الحنابلة، وقد ورد عليه أئمة مذهبه حتى قال العلماء: انه الضال المضل، ونسبتها للامام أشهب من أئمةالمالكية باطلة “(۲) تو اس کا خلاف غیر مقلد ہے اور اس پر عمل ضلالت ہے اور یہاں کون ضرورت شدیدہ ہے؟ جس کی وجہ سے کسی امام کے مسلک پر عمل کیا جائے بلکہ سب کا تین طلاقوں کے وقوع پر اجماع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵/ جمادی الآخر ۱۴۰۴ھ