حالت اکراہ میں تحریری و زبانی طلاق کی مختلف صورتوں کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: زید کی دو بہنیں ہیں ، بڑی بہن کو سسرال والوں کے ظلم وستم کے سبب جان گنوانی پڑی اور پھر کورٹ میں مقدمہ چلنے پر اس کی ساس کو تین سال کی سزا بھی سنائی گئی۔ اب چھوٹی بہن جو اُسی گھر میں بڑی بہن کے دیور کو بیاہی گئی ہے اور بالغ ہونے کے بعد سے ابھی تک نہیں گئی ہے اور بڑی بہن کے انجام کے پیش نظر اس گھر میں کسی قیمت پر نہیں جانا چاہتی۔ اور زید کے گھر والے اسے وہاں بھیجنا چاہتے نہیں لیکن مرحومہ کا دیور کسی صورت میں اسے طلاق نہیں دینا چاہتا۔ برادری وغیرہ کا دباؤ بھی بے اثر ثابت ہو چکا۔ لڑکی کو اب اور نہیں روکا جاسکتا ہے، ان حالات میں : اگر لڑکے کو اغوا کر کے اس سے جبر اطلاق لی جائے تو طلاق ہوگی یا نہیں؟ اگر ہوگی تو کیا صرف زبان سے کہلوانا کافی ہوگا یا تحریر لکھوانی بھی ضروری ہوگی؟ اور ان دونوں صورتوں میں گواہوں کی ضرورت ہوگی یا نہیں ؟ اگر ہوگی تو کتنے گواہ ہونا چاہئے؟ لڑکی کا سگا بھائی گواہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ کورے کاغذ پر صرف اپنے ہاتھ سے طلاق نامہ لکھنا ضروری ہے؟ اگر لڑ کا ان پڑھ ہو تو کیا صرف زبان سے کہلوانا کافی ہوگا؟ یا اور کوئی صورت ہے؟ اگر جبری طلاق کے بعد لڑ کا اپنے مضمون یا دستخط سے انکار کرے تو کیا حکم ہے؟
الجواب: طلاق واقع ہو جا ئیگی جبکہ زبان سے طلاق ادا کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم زبان سے کہلوانا ضروری ہے اور اسی کا اعتبار ہوگا اور محض تحریری طلاق واقع نہ ہوگی اور ثبوت طلاق کے لئے دو مرد عادل یا ایک مرد دو عورتیں عدول کی شہادت شرعیہ ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور سگے بھائی کی شہادت شرعیہ بھی قبول ہو گی کمافی الہندیہ: تجوز شهادة الأخ لأخته ) والله تعالى اعلم مضمون پر مطلع ہو کر دستخط کرے یا انگوٹھا لگائے یا خود لکھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم