غصے میں حاملہ بیوی کو دی گئی تین طلاقوں کا شرعی حکم اور رجوع کی صورت
مکرمی و محتر می جناب قبلہ مفتی صاحب! السلام علیکم یکم ذی قعده ۱۳۹۸ھ بعد آداب و سلام کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت ذیل کے مسئلہ میں؟ جواب باصوار ممنون فرمائیں : میری دو بہنوں کی شادی آج سے تقریباً تین سال پہلے ہوئی تھی دونوں بہنیں دو حقیقی بھائیوں کو دی گئی ہیں۔ شادی کے ایک سال بعد دونوں کو سسرال میں بہت تکلیف ہوئی مگر ان سب تکلیفوں کو ان لڑکیوں نے اور ہم نے صبر سے برداشت کیا۔ اس کے بعد چھوٹی بہن کے یہاں لڑکا ہوا اور بڑی کے یہاں لڑکی ہوئی۔ بعد گزشتہ رمضان المبارک، ۲۲ اگست ۱۹۷۷ء کو رات کو بڑی بہن کو اس کے شوہر نے قریب بارہ بجے بازار سے آکر کہا میرے پیر دبا سر دیا۔ میری بہن نے کہنے کے مطابق کر دیا اس کے بعد اس کے خاوند نے غصے میں آکر میری بڑی بہن ( فریدہ) کو ایک گواہ رکھ کر تین بار طلاق دی، اس لڑکی (فریدہ) کو چار پانچ ماہ کا حمل بھی ہے اس کے بعد فریدہ ہمارے گھر کو چلی آئی۔ اب اس کا خاوند اس طلاق کے بارے میں بہت پچھتا رہا ہے اب وہ ہماری بہن کو بلانا چاہتا ہے اس گھر میں ہماری چھوٹی بہن بھی ہے اس لئے ہم بڑی بہن کو بھیجنے کو تیار ہیں اور ہماری بہن بھی جانے کو
الجواب: فی الواقع اگر شوہر نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو بیوی اس کے نکاح سے فورا با ہر ہوکر اس پر ایسی حرام ہو گئی کہ اب بے حلالہ اس کو حلال نہیں ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزارے اور دوسرے سے نکاح صحیح ہو، وہ جماع کے بعد طلاق دے دے پھر یہ عدت میں بیٹھے اور بعد عدت پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالیٰ: (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غيرَهُ) () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم: لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ رصفر المظفر ۱۳۹۸ھ