غصے میں دی گئی تین زبانی طلاقوں کا حکم اور حلالہ کا طریقہ
تیار ہے۔ اگر ہم اس شخص پر مقدمہ کرتے ہیں تو ہماری چھوٹی بہن کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ ہمارے گھر آبھی نہیں سکتی۔ اس لئے غصے میں دی ہوئی طلاق کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ہمارے بہنوئی نے طلاق نامہ لکھ کر نہیں دیا۔ زبان سے ایک گواہ کی حاضری میں تین بار طلاق دی ہے۔ مہربانی فرما کر اس مسئلے کے جواب سے ممنون فرمائیں! المستفتی: حاجی عبد الغنی
الجواب: فی الواقع اگر شوہر نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو بیوی اس کے نکاح سے فورا با ہر ہوکر اس پر ایسی حرام ہو گئی کہ اب بے حلالہ اس کو حلال نہیں ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزارے اور دوسرے سے نکاح صحیح ہو، وہ جماع کے بعد طلاق دے دے پھر یہ عدت میں بیٹھے اور بعد عدت پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالیٰ: (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غیرَهُ) (۱) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم: لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ رصفر المظفر ۱۳۹۸ھ (1) سورة البقرة : ٢٣٠ (۲) جامع الترمذی، ابواب النکاح، ج ۱، ص ۱۳۳ ، مجلس برکات