شوہر کا مجمع عام میں بیوی پر الزام لگا کر تین طلاقیں دینے کا حکم
میں خدا کو درمیان کر کے اپنی بیوی نعیم بانو کو طلاق دیتا ہوں، تین مرتبہ کہا! عالی جناب قبلہ علماے دین و مفتیان دین! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته شرعاً علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ : میرے شوہر نے جس سے میرا عقد ہوئے دو ماہ ہوئے تھے، مجھ پر بدچلنی کا الزام لگا کر حق زوجیت سے محروم رکھا، دن وشبانہ جبر و تشدد سے مجھ کو زندگی سے بیزار کر دیا۔ یہ ظلم وستم برداشت سے باہر ہوگئے، میرے عزیز واقارب نے سب کو اکٹھا کر کے اور میرے شوہر سے میرے اوپر ظلم وستم کا سبب معلوم کیا تو میرے شوہر نے سب کے رو برو مجھ کو بد چلن ہونے کا الزام دیا اور کہا کہ میں اس کو اپنی بیوی کی حیثیت سے نہیں رکھ سکتا۔ میں خدا کو درمیان کر کے اپنی بیوی نعیم بانو کو طلاق دیتا ہوں۔ آج سے یہ میری بیوی نہیں اور میں اس کا شوہر نہیں ۔ یہ الفاظ تین مرتبہ کہے ہیں ۔ موجودہ گواہوں میں سلطان بیگ مرزا ، مجید بیگ مرزا، اسلام بیگ مرزا علی حسن ، بلی صاحب و دیگر مستورات اس طلاق کے بعد اس دن مجھ کو میرے ماں باپ کے گھر پہنچادیا اور اس طلاق سے آگاہی کر کے مجھے چھوڑ دیا۔ گیارہ ماہ ماں باپ کے یہاں مجھ کو ہو گیا۔ شرعا طلاق ہوئی یا نہیں؟ فقط ! المستفتیه : نعیم بانو دختر ہدایت حسین محله گلاب نگر ضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: تین طلاقیں ہو گئیں اور عورت شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ اب ہے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ قال تعالیٰ: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} () (1) سورة البقرة: ٢٣٠ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله