خط اور رجسٹری لیٹر کے ذریعے دی گئی تین طلاقوں کا حکم اور حلالہ کا طریقہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: مسمی اعجاز احمد نے اپنی بیوی بلقیس بانو کو تحریری طور پر تین طلاقیں لکھ کر طلاقنامہ بذریعہ رجسٹری لیٹر، بلقیس با نو کو بھیج دیا اور طلاق نامہ بلقیس بانو کو وصول بھی ہو گیا۔ کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگئی ؟ برائے کرم شریعت کے مطابق مسئلہ واضح فرمادیجئے۔ معین نوازش ہوگی۔ فقط ! مستفتی: علی احمد ملیر کالونی ، مکان نمبر ۵۹، کوارٹر نمبر ۲، امریہ، کراچی
الجواب: صورت مسئولہ میں بلقیس بانو اگر باور کرتی ہے کہ یہ تحریر اس کے شوہر ہی کی ہے تو اس پر اس تحریر کے بموجب عمل لازم ہے۔ لہذا جس تاریخ میں اس نے طلاق دی ہے اُس تاریخ سے عدت بیٹھے اور اگر شوہر کی طرف لوٹنا چاہے تو حلالہ لازم ہے ۔ حلالہ کا طریقہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ جب بعد جماع طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت پھر عدت گزار کر پہلے سے نکاح کر سکے گی۔ (1) الدر المختار، کتاب الطلاق، ج ۴، ص ۴۳۸، ۴۴۶ - ۴۴۴ ، دار الكتب العلمية، بيروت قال تعالى: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ } () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لاحتى تذوقى عسيلته ويذوق عسیلتک‘ (۲) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ ؍رجب المرجب ۱۳۹۸ھ