بیوی کی نافرمانی اور بلا اجازت میکہ جانے پر دی گئی تین طلاقوں کا شرعی حکم
حکم عدولی کی بناء پر طلاق دی جاسکتی ہے کہ نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و متین اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کی بیوی زیب النساء زید اور اس کے والدین کے بغیر اجازت برابر اپنے میکہ چلی جاتی ہے زیب النساء کے اس کردار پر زید نے آئندہ کے لئے زیب النساء کو اشارہ کیا کہ اگر تم آئندہ میرے اور میرے والدین کے بغیر اجازت میکہ جاؤ گی تو میں تجھے طلاق دے دوں گا۔ مگر زیب النساء نے اپنے شوہر کے حکم پر عمل نہیں کیا بلکہ بغیر اجازت پھر اپنے میکہ چلی گئی اس بناء پر زید نے اپنی بیوی زیب النساء کو تین طلاقیں دے دیں اور ساتھ ہی عدت کا خرچ اور مہر دین بھی ادا کر دیا۔ لہذا ایسی صورت میں شرع سے کیا حکم ہے؟ اور زیب النساء کے بارے میں حکم عدولی کی بناء پر زید طلاق دے سکتا ہے کہ نہیں؟
الجواب: صورت مسئولہ میں زیب النساء پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور وہ زید پر حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ قال تعالیٰ: (حَلَى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ جماع کے بعد طلاق دے دے پھر عدت گزرے تو اس پہلے سے نکاح کرے ۔ قال الی الہ و سلم : لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک) زید اپنی منکوحہ کو اس کے جائز حکم کو نہ ماننے کی صورت میں طلاق دے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ / رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ