ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کا شرعی حکم اور شیر خوار بچی کی پرورش کا مسئلہ
میں نے تم کو طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی ابعد طلاق بچے کہاں رہیں گے؟کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ:ہندہ کے میکے میلا د ہونے کو تھی، تو ہندہ کی امی ہندہ کو اور اپنے دامادزید کو اور دیگر لوگوں کو دعوت دینے زید کے گھر گئی زید کے والد ووالدہ سے اس نے کہا تو اُن لوگوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ تو جانہیں سکتے ہاں اپنی لڑکی ہندہ کو اور اپنے داماد کو لے کر جاؤ۔ یہ باتیں ہورہی تھیں کہ زید کے کان میں آواز پہنچی، وہ اوپر کام کر رہا تھا، اُتر کر آیا تو ہندہ کی امی نے کہا کہ آج میرے گھر میلا د ہے تم لوگوں کو دعوت دینے آئی ہوں تو زید نے کہا کہ ٹھیک ہے، ہم آجائیں گے تو ہندہ کی امی بولی کہ ہندہ کو ہمارے ساتھ بھیجد و اور تم بھی چلو تو زید نے کہا کہ ہم کو ابھی فرصت نہیں ہے، اپنی لڑکی ہندہ کو لے جاسکتی ہو۔ تو ہندہ اپنے ساز یعنی کپڑا لینے کو گئی جب تک زید کے والد نے کہا کہ اگر جاتی ہے تو جائے مگر ہندہ کی گود میں جو بچی ہے اس کو نہیں لے جانے دوں گا، یہ بچی ڈیڑھ ماہ کی تھی پھر یہ بھی کہا کہ اگر لے جائیگی تو پٹک کر ماردوں گا پھر زید کی والدہ نے کہا کہ دونوں کو جانے دو، فیصلہ لکھ کر بھیج دوں گی تو زید نے کہا کہ ٹھیک ہے میں فیصلہ دے دوں گا۔ یہ بات سن کر ہندہ کی امی کو غصہ معلوم ہوا اور وہ اٹھ کر دوسری جگہ دعوت دینے کو جارہی تھی تو زید نے اپنی ساس یعنی ہندہ کی امی سے کہا کہ کہاں جاتی ہو؟ بیٹھو۔ تو وہ بیٹھ گئی تو زید نے اپنی خوش دامن یعنی ہندہ کی امی کے سامنے اور دیگر لوگوں کے سامنے ہندہ کا نام لے کر کہا کہ میں نے تم کو طلاق دی ، طلاق دی ، طلاق دی۔ یہ لفظ تین بار کہا تو ہندہ کی امی ہندہ سے کہی کہ اب تم کو تو طلاق دے دیا تو جس نے سنا تھا اس میں سے ایک نے برجستہ کہا کہ تم ہندہ کو لے کر جاؤ، طلاق ہوگئی۔ اب کیا حکم ہے؟ طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی تو ڈیڑھ ماہ کی بچی کو کیا کیا جائے؟المستفتی: افضال احمد محلہ بھوڑ کلی گران، بریلی، یوپی
الجواب: بر تقدیر صدق سوال ہندہ پر تین طلاقیں ہو گئیں اور وہ اپنے شوہر پر حرام ہوگئی ۔ اب ہے حلالہ اسے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عدت کے دن گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد ہمبستری کرے پھر وہ طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو یہ عدت کے بعد پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالیٰ : افَلا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ عَلَى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ الآية } () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : ،، لاحتی تذوقی عسیلتہ ویذوق عسیلتک (۲) بچی ۹ سال کی عمر تک ماں کے پاس رہے گی اور اس کی پرورش کا خرچ مدت مقررہ تک باپ پر لازم ۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی