حالت نشہ میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں آیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک شخص نے حالت نشہ میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں۔ آیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ خلاصہ تحریر فرمائیں! لمستفتی: محمد عارف عالم محلہ برہم پورا ضلع بریلی (یوپی)
الجواب: وہ نشہ شراب یا کسی حرام چیز کا تھا اور اس شخص نے خود برضا ورغبت، نشہ کیا توصورت مسئولہ میں تین طلاقیں ہو گئیں اور عورت ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت کسی سے نکاح صحیح کرے وہ جماع کے بعد طلاق دے دے پھر عدت کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرے۔ قال تعالیٰ : {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجِأَ غَيْرَهُ الآية } () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : ،، لاحتی تذوقی عسیلتہ ویذوق عسیلتک (۲) (1) ہدایہ میں ہے: دو و طلاق السکران واقع (۳) ،، سورة البقرة : ٢٣٠ جامع الترمذی، ابواب النکاح، ج ۱، ص ۱۳۳، مجلس برکات (۳) الہدایة، کتاب الطلاق باب طلاق السنة ، ج ۱، ص ۳۵۸، مكتبة رحيمية در مختار میں ہے: وو حشیش او افیون او بنج زجراً به يفتى: تصحيح القدوری ) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ مدرسه منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف، یوپی