طلاق نامہ لکھنے کی وجہ سے طلاق بائن واقع ہونے اور عدت کے احکام کا بیان
اس گزارش کے تحت میں عبد الوہاب بن بڑھن صاحب اپنی بیوی بی بی جان کو بخوشی اپنی مرضی سے طلاق نامہ لکھ کر دیا ہوں۔ آئندہ اس کے کوئی کام و کاج میں دخل انداز نہ ہوں گا۔ آج بروز جمعرات بتاریخ 26.09.1968 مندرجہ ذیل لوگوں کے سامنے یہ طلاق نامہ لکھ کر دیا ہوں ۔ گواہان: (۱) رحیم خاں ۔ (۲) سید داؤ د صاحب۔ (۳) امام صاحب۔ (۴) عبدالعزیز ۔ (۵) اکبر خاں۔ خادم عبدالوہاب
الجواب: صورت مسئولہ میں عورت پر اس طلاق نامہ کی رو سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی اور عورت شخص مذکور کے نکاح سے فوراً نکل گئی۔ کما ھو الحکم فی الطلاق البائن۔ عورت بعد انقضائے عدت دوسرے سے نکاح کی مختار ہوگی۔ عدت کے اندر نکاح حرام ہے بلکہ صریح پیام نکاح بلکہ عزم وارادہ بھی حرام ہے۔ قال تعالى: (وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَةُ النكاح على يبلع الكتبُ أَجَلَهُ الآية ) اور عدت کے اندراگر شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے اور مہر جدید اس صورت میں لازم ہوگا جبکہ اس طلاق سے پہلے دو طلاقیں اور نہ دے چکا ورنہ عورت اب اس کے لئے بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ قال تعالى: (عَلى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ } حیض والی کی عدت تین حیض کامل اور حاملہ کی عدت وضع حمل ۔ اور جسے حیض نہیں آتا اُس کی عدت ۳ ماہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ رشوال المکرم ۱۳۹۶ھ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمدعبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی