تین طلاقوں کے وقوع اور حلالہ کے طریقہ کا بیان
میں نے تم کو طلاق دی، میں نے تم کو طلاق دی“ تیسری بار کہا کہ ”میں نے تم کو معہ بچوں کے طلاق دی کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: ایک شخص مسمی خلیل نے اپنی زوجہ کو غصے میں برا بھلا کہا، بیوی نے بھی غصے کی حالت میں جواباً سخت سخت الفاظ ادا کئے ، عورت نے طیش میں آکر جب یہ جملہ کہا کہ: ”اگر تو مرد کا بچہ ہے تو مجھے طلاق دے دے۔ اس پر شو ہر خلیل نے دوبار یہ جملہ کہا کہ میں نے تم کو طلاق دی، میں نے تم کو طلاق دی“ تیسری بار کہا کہ ” میں نے تم کو معہ بچوں کے طلاق دی۔ اب غصہ ختم ہو جانے پر دونوں پریشان اور نادم ہیں۔ اپنی حرکت پر کف افسوس ملتے ہیں۔ علیحدگی کی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں طلاق واقع ہوئی ؟ اور پھر دونوں میں میاں بیوی کا رشتہ کس طرح قائم ہوسکتا ہے؟ یا کوئی کفارہ لازم آتا ہے؟ حکم شرع سے آگاہ فرمائیں ۔ فقط والسلام! المستفتی: سید علی زیدی چیف ہیلتھ آفیسر، N.E ریلوے ہسپتال، گورکھپور
الجواب: تین طلاقیں ہو گئیں اور بیوی ایسی حرام ہو گئی کہ اب بے حلالہ حلال نہیں ۔ حلالہ یہ ہے کہ عدت گزار کر عورت دوسرے سے بعد نکاح صحیح وطی کرے، وہ پھر طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد (1) الدر المختار، کتاب الطلاق، ج ۴، ص ۴۴۷ - ۴۴۴، دار الكتب العلمية، بيروت ہو جائے پھر عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالیٰ: (فَإِن طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ الآية } () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم: لاحتى تذوقى عسيلته ويذوق عسیلتک‘ (۲) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ ذی قعدہ ۱۳۹۶ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف (1) سورة البقرة : ٢٣٠ (4) جامع الترمذی، ابواب النکاح، ج ۱، ص ۱۳۳ ، مجلس برکات