بیوی کو ستانے اور اسے معلق چھوڑ کر طلاق نہ دینے والے شوہر کا حکم
بیوی کو ستانے والا ظالم ہے! بخدمت جناب قبلہ مولانا اختر رضا خاں ،مفتی اعظم ہند ، محدث ملت اسلام، بریلی شریف! السلام علیکم آپ سے التماس ہے کہ ایک مسئلہ آپ کے پاس لکھ کر خدمت میں روانہ ہے اس مسئلہ کو آپ حدیث سے دیکھ کر جواب دیں۔ عین نوازش ہوگی۔ یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔ ایک لڑکی اور ایک لڑکے کی شادی ہوئی، کچھ عرصہ کے بعد اس لڑکی کے شوہر نے اپنی دوسری شادی کر لی۔ پہلی بیوی سے ایک بچی بھی ہے ۔ لڑکا پہلی بیوی کو لے جانے سے انکار کر رہا ہے اور طلاق دینے سے بھی انکار کر رہا ہے کہ میں طلاق نہیں دوں گا۔ لڑکی اپنی ماں و بھائی کے پاس ہے۔ اس کو رہتے
وہ شخص نہایت ظالم جفا کار حق اللہ وحق زن میں گرفتار ہے،اس پر لازم ہے کہ بیوی کوحسن سلوک کے ساتھ رکھے یا اسے طلاق دے دے، چھوڑ دے۔ ادہر میں لڑکا نا حرام ہے۔ قال تعالى: (فَلا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ الآية } () جس صورت بنے اس سے طلاق لیں۔ خواہ سمجھا بجھا کر ، خواہ مہر معاف کر کے، خواہ کچھ دے کر، خواہ حاکم وغیرہ کے ذریعہ دبا کر زبانی طلاق کہلوالیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱ رشوال المکرم ۰۳ ۱۴۰۳ھ