نکاح نہ کرنے کی قسم کھانے کے بعد نکاح فضولی کے ذریعے حنث سے بچنے کی صورت
میں بول لیا تو کیا ساجد جب جب نکاح یا شادی کریگا، طلاق پڑ جائیگی؟ اگر اس میں کوئی گنجائش ہو تو قرآن وحدیث سے مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ بینوا توجروا
الجواب: صورت مسئولہ میں چارہ یہ ہے کہ کوئی اس کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے خود کر دے اور وہ اپنے فعل مثلاً جماع و بوس و کنار وغیرہ سے اسے جائز کر دے۔ تنویر و در مختار میں ہے: ”حلف لا يتزوج فزوجه فضولى فاجاز بالقول حنث وبالفعل ومنه الكتابة خلافا لا بن سماعة لا يحنث ، به یفتی خانية (1) مگر مہر بھیجنے سے پہلے جماع وغیرہ مکروہ تحریمی ہے۔ قوله ( او بالفعل) كبعث المهر او بعضه بشرط ان يصل اليها وقيل الوصول ليس بشرط نهر وكتقبيلها بشهوة وجماعها لكن يكره تحريما لقرب نفوذ العقد من المحرم (۲) لہذا کتابت یا ارسال مہر کے ذریعے جائز کرے اور ایک صورت جواز کی یہ بھی ہے کہ لوگ اسے مبارک باد دیں اور وہ خاموش رہے، نکاح جائز ونافذ ہو جائیگا۔ رد المحتار میں ہے: وفى حاوى الزاهدى: لو هناه الناس بنكاح الفضولي فسكت فهو اجازة (۳) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ رشعبان المعظم ۱۳۹۷ھ