طلاق رجعی میں عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے بعد عدت نکاح جدید بمهر جدید لازم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: حنیف نے اپنی زوجہ مشتری کو غصہ کی حالت میں دو مرتبہ طلاق دیدی جس کی شاہد حنیف کی والدہ بھی ہیں مگر حنیف کی زوجہ مشتری کا کہنا ہے مجھے شک ہے کہ حنیف نے طلاق کا لفظ تین مرتبہ استعمال کیا ہے۔ دو مرتبہ کا تو مجھے خوب خیال ہے تیسری مرتبہ پہ شک ہے۔ لہذا از روئے شرع حکم صادر فرما ئیں کہ وقوع طلاق ہوگا یا نہیں ؟ اور ان کے ملنے ، ساتھ رہنے میں حرج تو نہیں؟ المستفتي : محمد حنیف، بازارصندل خاں، بریلی شریف
الجواب: فی الواقع اگر شوہر نے دو طلاق بہ لفظ طلاق یا کسی اور لفظ صریح سے دی تو دو ہی رجعی طلاقوں کا حکم ہے۔ اگر اس سے پہلے ایک اور نہ دے چکا تو اسے عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے۔ رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ شوہر دو متقی پرہیز گار مردوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی عورت سے رجعت کی۔ اور بعد عدت ( یعنی اگر عدت گزر چکی تو ) یہ مہر جدید برضائے زن نکاح کر سکتا ہے۔ شک پر حکم عائد نہ ہوگا۔ واقعہ اگر بیوی نے تیسری بار طلاق کا لفظ سنا تو اُسے حلال نہیں کہ شوہر کو اپنے اوپر قابو دے۔ بلکہ اس سے دور رہنا فرض ہے اور یقین کو شک بنانے سے حکم خدا بدل نہ جائیگا، مفتی کا کام اظہار حکم شرع ہے وبس۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ