تین طلاقوں کے وقوع اور حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کی ممانعت کا حکم
تھی۔ زید اور ہندہ کے والد ووالدہ کے مابین تعلقات خراب ہو گئے ، زید نے ہندہ کے گھر پر جا کر ہندہ کا نام لے کر اس کے والد ووالدہ کے سامنے بتاریخ ۱۲ مارچ ۱۹۷۶ء کو زبانی تین طلاقیں دیں۔ ہندہ نے مہر بھی معاف کر دیا۔ ہندہ کے والد سے معاہدہ ہوا کہ سب سامان واپس کر دیں گے اور تحریر میں بھی طلاق و مہر کے کاغذ لکھوا دیے جائیں گے مگر ہندہ کے والد نے سامان وغیرہ نہیں دیا۔ زید نے بتاریخ ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو ایک نوٹس ہندہ کو دیا جس میں واضح کر دیا کہ میں نے آپ کو طلاق دے دی تھی مگر آپ نے میرا سامان ابھی تک واپس نہیں دیا۔ علاوہ اس کے ہندہ کے محلے والوں و دیگر اشخاص نے طلاق کے بارے میں پوچھا، اُن کو زید نے بتلایا کہ میں نے ہندہ کو تین طلاقیں دے دیں ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کو طلاق کامل ہو گئی یا نہیں؟ اب ہندہ زید کی بیوی رہی یا نہیں؟ اگر نہیں رہی تو دوبارہ ہندہ سے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: المستفتی: مولوی مطیع الرحمن مسجد معشوق اللہ، چھوٹی بمن پوری بر تقدیر صحت واقعہ، صورت مسئولہ میں ہندہ زید پر ایسی حرام ہو گئی کہ اب بے حلالہ اس کو حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ کم از کم ایک بار جماع کر کے طلاق دے دے پھر عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالى: (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتک (۲) سامان اگر عورت کو بطور تملیک دیا تھا خواہ صراحۃ تملیک ہو یا وہاں کی عادت یہ ہو کہ عورت کو جو سامان دیتے ہیں، بطور تملیک دیتے ہیں تو آب زید کو اس کے مطالبہ کا حق نہیں ہے اور اگر بطور تملیک نہ تھا تو مطالبہ کر سکتا ہے اور یہ حکم اس صورت میں ہے کہ دفعہ یوں کہا کہ تین طلاقیں دیں۔ اور اگر یوں کہا کہ طلاق دی۔ الخ تو وہ ایک ہی سے بائن ہو گئی۔ اب حلالہ کی ضرورت نہیں، برضائے ہندہ بمہر جدید پھر سے نکاح کر سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۶ رذی الحجہ ۱۳۹۶ھ دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف