حالت حمل میں تین طلاق کا حکم اور حلالہ کی شرعی حیثیت
بیوی کی غیر موجودگی میں ۱۰- ۱۵ / آدمی و عورتوں کے سامنے تین بار طلاق دی جبکہ سات یا آٹھ ماہ کے حمل سے ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: میں نے اپنی بیوی کو اس کی غیر موجودگی میں ۱۰ - ۱۵ / آدمی دعورتوں کے سامنے تین بار طلاق دی اور وہ سات یا آٹھ ماہ کے عمل سے ہے۔ دوسری بات میں پانچ سال سے ٹی وی کا مریض ہوں ، خون آتا ہے منہ سے، آج بھی بہت آیا۔ طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟ کھلے لفظوں میں جواب دیجئے۔ مہربانی ہوگی ! لمستفتی: حافظ نثار احمد محله گنگھر ضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: تین طلاقیں دیں تو واقع ہوگئی اور عورت حرام ہوگئی ۔ اب بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کر کے مشغول جماع ہو، پھر وہ طلاق دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ (1) سورة البقرة: ٢٣٠ قال تعالى : {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجَأَ غَيْرَهُ الآية } () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لاحتى تذوقى عسيلته ويذوق عسيلتک (۲) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ