دھمکی اور دباؤ کی صورت میں دی گئی طلاق کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ٹانسے خاں نے اپنی بیوی جنت النساء سے دو سال کی مدت تک ازدواجی تعلقات منقطع رکھا اور جنت النساء کو نہ تو اس کے میکہ سے رُخصت کرایا نہ تو نان و نفقہ دیا جب کہ جنت النساء اور اسکے متعلقین کی جانب سے بار بار رخصت کرانے کا تقاضہ ہوتارہا لیکن نہ تو اس نے اپنے گھر رخصت کرایا نہ تو اس کا نان ونفقہ دیا۔ جنت النساء کے متعلقین نے پھر ٹانسے خاں سے کہا کہ تم طلاق دو یا رخصت کرا کے لے جاؤ مگر ٹانسے خاں ان دونوں باتوں سے انکار کرتا رہا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے جنت النساء کے چند بہی خواہ متعلقین نے ٹانسے خاں کو گھیرا اور ان دو باتوں میں سے کسی ایک پہ مجبور کیا مگر اس نے کسی کو تسلیم نہیں کیا۔ آخر میں ان لوگوں نے اسے مار پیٹ کی دھمکی دی اور اسے پورا مرعوب کیا اور اس نے جبر اوہ الفاظ جوان لوگوں نے اس سے کہلایا اس نے تین بار کہا، الفاظ یہ ہیں : ٹانسے خاں جنت النساء کو طلاق دیتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالاصورت میں جنت النساء پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ مستغنی: جناب اسمداد صاحب، بسیاں ہنو، پوسٹ گھر اما، آفس خلیل آباد ہستی (یوپی)
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ شخص مذکور نے یہ جملہ تین بار کہا، اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور وہ اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ قال تعالى: (فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) (1) سورة البقرة : ٢٣٠ تنویر و در مختار میں ہے: وو ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ولو تقديرا بدائع يدخل السكران) ولو عبدا او مکرها فان طلاقه صحیح لا اقراره بالطلاق ) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ رذی الحجہ ۱۳۹۵ھ/ دار الافتاء، سوداگران، بریلی الجواب صحیح ! محمد علی نوری غفرلہ