شوہروں کا نان و نفقہ نہ دینا اور نہ طلاق دینا، ایسی صورت میں عورت کے لیے دوسری شادی کا حکم
کو پھر گھر لے آیا اور اس کا علاج پھر کرایا اس دوران اس لڑکے نے دوسرا عقد کر لیا۔ اس بات کو اب چھ سات سال ہونے کو آیا۔ اب نہ لڑکی کو کھانا کپڑا دیا جاتا ہے اور نہ طلاق دی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں لڑکی کو ماں باپ کے گھر ۱۰ سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا۔ اب لڑکی کیا کرے؟ لڑکی جوان ہے۔ ایسی کیا صورت ہے کہ لڑکی اپنا چھٹکارا پا کر اپنا عقد دوسری جگہ کر سکے؟ دوسری بڑی لڑکی کے شوہر نے بھی بڑی لڑکی کو سسرال سے ماں باپ کے گھر بھیجد یا اور اس نے بھی دوسرا عقد کر لیا۔ اب لڑکی اور اس کی بچی میرے پاس ہیں اور اس بڑی لڑکی کو بھی ۴۳ سال ہونے آیا ۔ بڑا داماد بھی نان و نفقہ نہیں دے رہا ہے اور نہ اپنے بچوں کی خبر گیری کرتا ہے اور نہ طلاق کے لئے تیار ہے۔ اب ایسی حالت میں بڑی لڑکی کیا صورت خلع کے لئے کرے؟ میں ایک پرائمری کا ماسٹر ہوں اس مہنگائی میں اتنا بار مشکل ہو رہا ہے۔ آپ مناسب رائے اور شریعت کے حکم سے مطلع کریں کہ میں لڑکیوں کا خلع کرا کر دوسری جگہ عقد کرا دوں۔ اگر عدالت فعل مختاری کی اجازت دے تو نکاح کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ فقط والسلام!
الجواب: دونوں مرد سخت گناہگار، مستوجب نار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہیں، ان دونوں پر فرض ہے کہ بیویوں کو نان و نفقہ دیں، حسن سلوک کے ساتھ رکھیں یا طلاق دے کر ان کی گلو خلاصی کریں، ادہر میں لٹکائے رکھنا حرام ہے۔ قال تعالى: (فإمساك يتغرُوفٍ أو تشريح بإحْسَانِ الآية } () وقال تعالى: {فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ- الآية } () وہ لوگ اگر خود طلاق نہ دیں تو مہر معاف کر کے خواہ کچھ دے کر خواہ حاکم کے جبر و اکراہ سے طلاق کہلوائی جائے۔ بے طلاق وانقضائے عدت دوسرے سے نکاح حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۱ار جمادی الاخری ۱۴۰۷ھ