طلاق کے بعد رہائش، حمل میں نکاح اور بچہ کے ثبوت نسب کا مسئلہ
طلاق کے بعد میاں بیوی ایک گھر میں رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اور میں اس سے جدا ہو گیا، وہ ایک گھر میں تھی میں دوسرے گھر میں تھا، میں اس سے جدا ہوں ۔ وہ میرے گھر میں رہ سکتی ہے کہ نہیں ؟ اور میں اس کو خرچہ خورا کی دے سکتا ہوں کہ نہیں؟ شرعاً کیا حکم ہے؟ (۲) ایک عورت حمل سے ہے حمل کی حالت میں دوسرا نکاح کر سکتی ہے کہ نہیں ؟ شرعاً کیا حکم ہے؟ (۳) ایک عورت کا شوہر پردیس میں تھا، شوہر پردیس سے گھر گیا گھر جانے پر چھ ماہ بعد لڑکا پیدا ہوا، یہ لڑ کا جائز ہے یا نہیں ؟ فقط ۔ والسلام علیکم لمستفتی: سمیع اللہ
الجواب: (1) عدت جبکہ باقی ہو، اس کا نفقہ واجب ہے اور گھر میں رہ سکتی ہے مگر پردہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حمل کے اندر دوسرا نکاح منع ہے۔ بعد وضع حمل جس سے نکاح جائز ہے، کر سکتی ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۳) وہ لڑکا اس کا قرار پائے گا کہ ثبوت نسب کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی